تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 346
یر بھی بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔کہ جیسا کہ شہادتوں سے ثابت ہے۔لاہور میں فسادات میں حصہ لینے والے صرفت لامبور کے باشندے نہیں تھے۔بلکہ زیادہ تر حملے کرنے والے لوگ وہ تھے۔جو کہ باہر سے منگوائے گئے تھے۔پس اس بات کو دیکھ کر لاہور کے مارشل لاء کے جاری کرنے کے موجبات کو صرف لاہور تک محدود نہیں کیا جائے گا۔بلکہ پنجاب کے دوسرے علاقوں پر بھی نظر ڈالنی پڑے گی اگر بیر نجات سے سینکڑوں کی تعداد میں جھتے نہ آتے تو پولیس کے لیے انتظام مشکل نہ ہوتا۔پولیس کا انتظام زیادہ تر اس بات پر مبنی ہوتا ہے کہ وہ لوکل آدمیوں کی طبیعتوں اور ان کے چال چلن کو جانتی ہے اور وہ جھتی ہے کر کس محلہ میں کون کون لوگ سے اس قسم کی شرارت کر سکتے ہیں اور پھیلا سکتے ہیں۔نہیں وہ ان کو گرفتار کہ لیتی ہے اور اس طرح شورش کی جڑ کو کچل دیتی ہے لیکن گزشتہ فسادات میں پارٹیشن کے زمانہ کے فسادات سے سبق سیکھتے ہوئے ان فسادات کے بانیوں نے جہاں جہاں بھی فساد ہوا۔وہاں باہر سے آدمی لاکہ جمع کر دیئے تھے۔تاکہ پولیس ان سے معاملہ کرتے وقت صحیح اندازہ نہ کر سکے اور مقامی شورش پسند لوگ جن کو وہ جانتی ہے ان کی گرفتارہ ہی سے شورش کو دبا نہ سکے۔پنجا ہے دوسرے علاقوں میں بھی جہاں جہاں شورش کی گئی۔اسی رنگ میں کام کیا گیا۔کہ جس گاؤں میں شورش کرنی ہوتی تھی۔وہاں ارد گرد کے گاؤں سے آدمی لائے جاتے تھے اور مقامی گاؤں والے بظاہر خاموش بیٹھے رہتے تھے۔لیں جو کچھ لاہور میں ہوا۔وہ کبھی نہیں ہو سکتا تھا۔اگر اضلاع میں اس کی بنیاد نہ رکھی جاتی۔اور اگر حکومت اس فتنہ کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے تمام اضلاع میں تعاون پیدا کر دیتی تو یہ فسادات یا تو رونما نہ ہوتے یا ظاہر ہوتے ہی دبا دیئے جاتے۔ہم اس بات میں نہیں پڑنا چاہتے کہ زید یا بر کس پر ان فسادات کی زیادہ ذمہ داری ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں۔کہ نہ اس طرح ہمارے مقتول واپس لائے جا سکتے ہیں۔نہ ہمارے جلائے ہوئے مکان بنائے جاسکتے ہیں نہ ہمارے ٹوٹے ہوئے مال ہم کو واپس دیئے جا سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے۔کہ مناء کرنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ لوگ جن کا فساد میں فائدہ ہوتا ہے۔لیکن اگر یہ ظاہر ہو جائے کہ وہ فساد میں شامل ہیں تو وہ اس فائدے سے محروم ہو جاتے ہیں دوسرے وہ لوگ فساد کروانا چاہتے ہیں اور فساد کروانے کی عزت خود حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ان لوگوں کا فائدہ اسی میں ہوتا ہے کہ ان کا نام آگے آئے اور لوگوں کو معلوم ہو۔کہ وہ اس کام میں حصہ لے رہے ہیں۔