تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 339
مندرجہ بالا احمدیوں نے نکاح سے نہیں روکا بلکہ ان کے نکاح توڑے گئے احمدیوں نے جنازہ سے نہیں روکا بلکہ انکو جنازہ سے باز رکھا گیا لیکن باوجود اس کے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے آخری کوشش یہی کی کہ باقی مسلمانوں سے صلح ہو جائے لیکن جب با وجود ان تمام کوششوں کے ناکامی ہوئی تو جیسا کہ مولوی عبدالاحد صاحب کی بالا عبارت میں اقرار کیا گیا ہے تب بامر مجبوری فتنے سے بچنے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق جوابی کارروائی کرنی پڑی۔پھر اس سلسلہ میں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ دیگر فرقوں نے بھی ایک دوسرے فرقہ والوں کے جنازہ کی حرمت و امتناع کے فتوے دیئے ہیں چنانچہ علمائے اہلسنت والجماعت و علمائے دیو بند نے شید فرقہ والوں کے جنازہ کو نہ صرف حام اور ناجائز قرار دیا ہے کہ ان کو اپنے جنازہ میں شریک ہونے کی بھی مافت کی ہے چنانچہ مولانا عبد الشکور صاحب مدیر النجم " کا فتوے ملاحظہ ہو۔آپ لکھتے ہیں:۔ان کا جنازہ پڑھایا ان کو اپنے جنازہ میں شریک کرنا جائز نہیں ہے ان کی مذہبی تعلیم ان کی کتابوں میں یہ ہے کہ سنیوں کے جنازہ میں شریک ہو کر یہ دعا کرنی چاہیئے کہ یا اللہ ! اس قبر کو الگ سے بھر دے اس پر عذاب نازل گریه لاحظہ ہو رسالہ موسومہ بہ علمائے کرام کا فتوی در باب ارتداد شیعه اثنا عشریه مت) (ب) نیز مولانا ریاض الدین صاحب مفتی دارالعلوم دیو بند لکھتے ہیں :۔شادی نمی جنازہ کی شرکت ہرگز نہ کی جائے ایسے عقیدہ کے شیعہ کا فر ہی نہیں بلکہ اکھر ہیں۔فتو ی علمائے کرام متہ ) (ج) اس کے بالمقابل شیعہ صاحبان کے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام نے شیعہ صاحبان کو یہ ہدایت فرمائی کہ اگرکسی غیر شیعہ کی نماز جنازہ میں شامل ہونا پڑ جائے تو متوفی کے لیے مندرجہ ذیل دعا کرے۔قَالَ إِن كَانَ جَاعِدًا لِلْحَقِّ فَقُلْ اللَّهُمْ إِمْلَا جَوْنَهُ نَارًا وَقَبْرَهُ نَارًا وَسَلَّطْ عَلَيْهِ الْحَيَّاتَ وَالْعَقَارِبَ وَذَلِكَ قَالَهُ ابو جَعْفَرِ عَلَيْهِ السّلامُ لا مَرَةٍ سَوءٍ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ صَلَّى عَلَيْهَا ملاحہ و شیعہ حضرات کی مستند ترین کتاب فروع الکانی کتاب الجنائز جلد امت اباب الصلاة على الناصب مصنفہ حضرت محمد یعقوب کلینی مطبوعه نولکشور)