تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 340
۳۳۹ اے اللہ ! اس کا پیٹ آگ سے بھر دے اور اس پر سانپ اور بچھو مسلط کر یہی وہ دعا ہے جو حضرت امام جعفر صادق نے بنو امیہ کی ایک غیر شیعہ عورت کے بارے میں کی تھی۔سوال نمبر دیا گیا احمدی اور غیر احمدی میں شادی جائز ہے ؟ (2) اب کیا احمدی عقیدہ میں ایسی شادی کے خلافت ممانعت کا کوئی حکم موجود ہے ؟ جواب : کسی احمد می مرد کی غیر احمدی لڑکی سے شادی کی کوئی ممانعت نہیں البتہ احمدی لڑکی کے غیر احمدی مرد سے نکاح کو ضرور رو کا جاتا ہے لیکن باوجود اس کے اگر کسی احمدی لڑکی اور غیر احمدی مرد کا نکلا ہو جائے تو اسے کا لعدم قرار نہیں دیا جاتا اور اولاد کو جائز سمجھا جاتا ہے۔اس تعلق میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہماری طرف سے ممانعت کی ابتداء نہیں ہوئی بلکہ اس میں بھی غیر احمدی علماء نے ہی سبقت کی اور اس میں شدت اختیار کی۔(1) چنانچہ سب سے پہلے مولوی محمد عبداللہ صاحب اور مولوی عبد العزیز صاحب مشہور مفتیان لدھیانہ نے یہ فتوی دیا۔در خلاصہ مطلب ہماری تحریر ات قدیمہ جدیدہ کا ہی ہے کہ جو شخص ریعنی مرزا غلام احمدی مرتد ہے اور اہل اسلام کو ایسے شخص سے ارتباط رکھنا حرام ہے ایسے ہی جو لوگ اس پر عقیدہ رکھتے ہیں وہ بھی کافر ہیں اور ان کے نکاح باقی نہیں رہے جو چاہے ان کی عورتوں سے نکاح کرے (ملاحظہ ہو رہ سالہ اشاعۃ السنہ جلد ۳ اصه مطبوعہ ۱۸۹۵) (ب) جب عقیدت فرقه قادیانی بسبب کفر و الحاد و زندقه وارتداد موا تو میجر اس عقیدت مندی ان کی ہیویاں ان کے نکاحوں سے باہر ہو گئیں اور جب تک وہ تو بہ منصورح نہ کریں تب تک ان کی اولادیں سب حرامی ہوں گی۔دمهر صداقت المعروف با حکام شریعت منا مطبوعه بر رای) علاوہ ازیں یہ من کرنا بھی ضروری ہے کہ در اصل غیر احمدیوں سے ممانعت نکاح کی بنا احمدیت سے بغض اور عداوت رکھنے والوں کے اثر سے لڑکیوں کو بچانا تھا کیونکہ تجربے نے یہ بتایا ہے کہ وہ احمدی لڑکیاں جو غیر احمدیوں میں بیاہی جاتی ہیں ان کو احمدیوں سے ملنے نہیں دیا جاتا احمدی تحریکوں میں چندے دینے سے ہوگا جاتا ہے اور بعض گھرانے تو اتنے جاہل ہوتے ہیں کہ لڑکی پی اس وجہ سے سختی کرتے ہیں کہ وہ نماز کیوں پڑھتی