تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 338 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 338

احمدیہ نے بعض غیر احمدی دوفات یافتہ اصحاب کے لیے دعا کی ہے چنانچہ جی معین الدین سیکر ٹی حکومت پاکستان کے والد صاحب جو احمدی نہ تھے) کی وفات پر حضرت امام جماعت احمدیہ ان کے گھر تعزیت کے لیے تشریف نے گئے اور ان سے میاں معین الدین کے ماموں صاحب نے یہ فاتحہ کے لیے کہا تو آپ نے فرمایا کہ فاتحہ میں تو دعامانگنے والا اپنے لیے دعا کرتا ہے یہ موقعہ تو وفات یافتہ کے لیے دعا کرنے کا ہوتا ہے اس پر متوفی کے رشتہ داروں نے کہا کہ ہماری یہی عرض ہے فاتحہ کا لفظ رسما بول دیا ہے تو آپ نے متوفی نے رشتہ داروں سے مل کر میتونی کے لیے دعافرمائی اسی طرح مصر عبد القادر مرحوم کی وفات پر جب حضرت امام جماعت احمدیہ تعزیت کے واسطے ان کی کو بھی پر تشریف لے گئے تو ان کے حق میں بھی دعا فرمائی۔اس جگہ یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ ممانعت جنازہ کے بارے میں بھی سبقت ہمارے مخالفین نے ہی کی چنانچہ مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی کا فتوے شاء میں بایں الفاظ اشاعۃ السنہ میں شائع ہو چکا ہے :- اب مسلمانوں کو چاہیئے کہ ایسے وقبال کذاب سے احترانہ کریں اور نہ ان کے پیچھے اقتداء کریں اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھیں۔ررسالہ اشاعت السنه نمیره جلد نمبر ۳ مطبوعه مساء " اسی طرح شاہ میں مولانا عبدالاحد صاحب خانپوری لکھے ہیں :- جب طائفہ مرزائیہ امرتسر میں بہت خوار و ذلیل ہوئے جمعہ دجماعات سے نکالے گئے اور میں مسجد میں جمع ہو کر نمازیں پڑھتے تھے اس میں سے بے عزتی کے ساتھ بدر کیے گئے اور جہاں قیصری باغ میں نماز جمعہ پڑھتے تھے وہاں سے حکما روک دیئے گئے تو نہایت تنگ ہو کہ مرزائے قادیان سے اجازت مانگی کہ مسجد نئی تیار کریں تب مرزا نے ان کو کہا کہ صبر کرو ہیں لوگوں سے صلح کرتا ہوں اگر صلح ہوگئی تو سجد بنانے کی حالیت نہیں اور نیز اور بہت سی ونتیں اٹھائیں معاملہ دیتاؤ مسلمان سے بند ہو گیا عورتیں حکومد محظوبیہ بوجہ مرزائیت کے بھی گئیں مردے ان کے بے تجہیز وتکفین اور بے جنازہ گڑھوں میں رہائے گئے یہ راظہار مخادعه مسلمه تاوریانی بجواب اشتار مصالحت پولارس ثانی مست مولفہ مولوی عبد الاحد خانپوری مطبوعه مطبع چودھویں صدی راولپنڈی ) اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ احمدیوں نے مسجدیں نہیں چھوڑیں بلکہ ان کو مسجدوں سے نکالا گیا