تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 337 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 337

٣٣ ملی ہے ماسوا اس کے دوسرا فرق یہ بھی ہے کہ قرآنی وحی کے ماننے کے لیے باقی سلسلہ احمدیہ کی تصدیق کی ضرورت نہیں بلکہ اگر قرآن مجید حضرت بانی اسلسلہ احمدیہ کی تصدیق نہ کرتا ہو تو ہم ہرگز ان پر ایمان نہ لانے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی وحی اور آنحضرت صلی اللہ وسلم کی وحی میں بلحاظ مرتبہ فرق کیا ہے آپ فرماتے ہیں:۔در سنو خدا کی لعنت ان پر جو دعوے کریں کہ وہ قرآن کی مثل لا سکتے ہیں قرآن کریم معجزہ ہے جس کی مثل کوئی انس دین نہیں لاسکتا اور اس میں وہ معارف اور خوبیاں جمع ہیں جنہیں انسانی علم جمع نہیں کرسکتا بلکہ دہ الیسی وحی ہے کہ اس کی مثل اور کوئی وحی نہیں اگر چہ رحمان کی طرف سے اس کے بعد کوئی اور وحی بھی مواس لیے کہ وحی رسانی میں خدا کی تجلیات ہیں اور یہ یقینی بات ہے کہ خدا تعالی کی تجلی جیسا کہ خاتم الانبیاء صلی الہ علیہ وسلم پر ہوئی ہے ایسی کسی پرنہ پہلے ہوئی اورنہ پیچھے ہو گی۔اردو ترجمہ از عربی عبات المد والتبصر الن پر ایسی سوالنمیش (1) کیا احمد یہ عقیدہ میں یہ شامل ہے کہ ایسے اشخاص کا جنازہ جو مرزا صاحب پر یقین نہیں Infructuous ہے؟ اب کیا احمد یہ عقائد میں ایسی نماز جنازہ کے خلاف کوئی حکم موجود ہے ؟ " جواب : 15 احمدیہ کر یڈ میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جو شخص حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو نہیں مانتا اس کے حق میں نماز جنازہ "Infructuous" ہے۔(ب) دوسری شق کا جواب یہ ہے کہ گو اس وقت تک جماعتی فیصلہ یہی رہا ہے کہ غیر از جماعت لوگوں کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے لیکن اب اس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر اپنے قلم سے لکھی ہوئی ملی ہے جس کا حوالہ ایک مرتبہ شاہ میں دیا گیا تھا اور حضرت امام جماعت احمدیہ نے اس کے متعلق اسی وقت اعلان فرما دیا تھا کہ اصل تحریہ کے ملنے پر اس کے متعلق غور کیا جائے گا لیکن وہ اصل خط اس وقت نہ مل سکا۔اب ایک صاحب نے اطلاع دی ہے کہ ان کے والد مرحوم کے کا غذات میں سے اصل خط مل گیا ہے میں سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا کفر با کذب نہ ہو اس کا جنازہ پڑھ لینے میں حرج نہیں کیونکہ جنازہ صرف دعا ہے۔لیکن با دو جو د جنازے کے بارے میں جماعت کے سابق طریقہ کے غیر احمدی مرحومین کے لیے دعائیں کرنے میں جماعت نے کبھی اجتناب نہیں کیا چنانچہ حضرت امام جماعت احمدیہ اور اکابرین جماعت ست با حاصل پہ سے ڈاکٹر میجر محمد شاہنواز خانصاحب مراد ہیں۔