تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 336
۳۳۵ ہیں کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ پر وحی الہی ہوتی تھی اور قرآن کریم سے ثابت ہے کہ وحی الہلی نہ صرف مامور وں بلکہ غیر ماموروں کو بھی ہوتی ہے چنانچہ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی طرف وحی نازل ہونے کا ذکرہ آیا ہے (ملاحظہ ہو سورہ قصص رکوع پارہ ۲۰) اور حضرت مریم علیہ السلام کے متعلق بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ملائکہ ان کے پاس خدا تعالیٰ کا کلام لے کر آئے (سورۃ آل عمران و مریم ع ۲) پس وحی اور فرشتوں کا اترنا مامور من اللہ کے علاوہ غیر مامور وں کے لیے بھی ثابت ہے ہندوستان میں اسلام کا جھنڈا گاڑنے والے اور اس کی بنیاد قائم کرنے والے حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں سے د میدم روح القدس اندر معین می دمد من نے گویم مگر من جیسے ثانی شدم دیوان حضرت خواجہ معین الدین اجمیر نئی ) یہ عرض کرنا مناسب ہے کہ مسلمانوں کی اصطلاح میں روح القدس" حضرت جبرئیل کا نام ہے۔ر ملاحظہ ہو نعت کی مستند ترین کتاب مفردات القرآن مصنفہ امام راغب زیر لفظ روح مرده ۲۰ مطبع مفیه مرد تفسیر روح المعانی جلد اول ص ۲۶ ، ملا مطبوعہ مصر اور تفسیر صافی جلد اول پاره اول ما نیز تفسیر کبیر مصنفہ حضرت امام رازی جلده مش۲۵ و جلد ۳ ص ۶۹ مطبوعہ مصر و تفسیر مدارک النتريل النسفي جلد را مست ۹ مطبوعہ مصر) ان کے علاوہ اسلام میں سینکڑوں اولیاء اللہ مثلا سید عبدالقادرجیلانی رحمة اللہ علیہ اور حضرت سید احمد صاحب سرہندی مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ و غیر هم علی قدر مراتب ملهم من اللہ تھے۔ومی تین طریقوں سے ہوتی ہے ان کا ذکہ قرآن کریم کی آیت مَا كَانَ لِبَشَرِ أَن يُكَلِّمُهُ اللَّهُ الأوحيا أو مِنْ وَاحِجَابِ ادْيُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوْحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُه ر صورة شوری عه یاره (۲۵) میں بیان ہوا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیا و اولیاء پہ انہی طریقوں سے وحی نازل ہوتی ہے البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی وحی میں ایک فرق تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی شریعت جدیدہ والی نازل ہوتی تھی اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی وحی غیر تشریعی اور علی ہے یعنی یہ نعمت آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور آپ کے فیض سے