تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 335
۳۳۴ ان کے گھر میں کوئی شبہ نہیں۔ان کے پیچھے نمانہ پڑھنا ان کے جنازہ کی خانہ پڑھنا ان کے ہاتھ کا زیادہ کھانا اور تمام معاملات میں ان کا حکم بعینہ وہی ہے جو مرند کاه رفتو نے عطاء کرام مشتہرہ مر اشتہار شیخ مہر محمد قادری باغ مولوی انوار لکھنو مو سشوال ۱۳۵۳ھ جس پر ستر علماء کے دستخط ہیں جن میں مولوی سیداحمد ناظم انجمن حزب الاحناف ریر اور حقیقی مولوی ابوالحسنات صاحب مولانا ابوالحنات - سید محمد احمد خطیب مسجد وزیر خاں مولوی عبد القادر بدایونی اور پیر جماعت علی شاہ صاحب مجددی محدث علی پور بھی شامل ہیں۔سوال نمبر :- ایسے کا فر ہونے کے دنیا اور آخرت میں کیا نتائج ہیں ؟ جواب : اسلامی شریعت کی رو سے ایسے کافر کی کوئی دنیوی سزا مقرر نہیں وہ اسلامی حکومت میں ویسے ہی حقوق رکھتا ہے جو ایک مسلمان کے ہوتے ہیں اسی طرح وہ عام معاشرہ کے معامہ میں بھی وہ وہی حقوق رکھتا ہے رکھتا ہے جو ایک مسلمان کے ہیں۔ہاں خالص اسلامی حکومت میں وہ حکومت کا ہیڈ نہیں ہو سکتا۔باقی رہے اخروی نتائج۔سوان نتائج کا حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے بالکل ممکن ہے کہ کسی حکومت کی وجہ سے ایک مسلمان کہلا نیوالے نسان کو تو خدا تعالیٰ سزا دیدے اور کافر کہلانے والے انسان کو اللہ تعالیٰ بخش دے۔اگر کافر کے لیے یقینی طور پر دائمی جہنمی ہونا لازمی ہے تو پھر کسی کو کافر قرار دینا صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔سوالنمیشه: کیا مرزا صاحب کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اور اسی ذریعہ سے الہام ہوتا تھا ؟ جواب: ہمارے نزدیک حضرت بانی سلسلہ احمدیہ بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل وحی قرآن مجید ہے قرآن کریم کی دحی کے متعلق ہمیں قرآن کریم سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کی حفاظت کے خاص سامان کیے جاتے ہیں ہمارے نزدیک حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو نبی گزرے ہیں ان کی وحی بھی اس رنگ کی نہیں ہوتی تھی اور حضرت بانی جماعت احمدیہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے آپ کی وحی بھی قرآن کریم کے تابع تھی بہر حال وہ ذرائع جو اللہ تعالیٰ اس وحی کے بھیجنے کے لیے استعمال کرتا تھا وہ ان ذرائع سے نیچے ہوں گے جو قرآن کریم کے لیے استعمال کیے جاتے تھے لیکن یہ محض ایک عقلی بات ہے واقعاتی بات نہیں جس کے متعلق ہم شہادت دے سکیں بعمل قرآنی آیات اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ پر قیاس کر کے یہ جواب دے رہے اپنی حقیقت کو پوری طرح معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں البتہ ہم ضرور تسلیم کرتے