تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 323 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 323

۳۲۲ اور ان کی حکومتوں سے قطع تعلق کرنے کا مشورہ دیا اور ان کے خلاف ہنگامے گئے (اگر ان واقعات سے علما کو انکار ہو تو ہم اسلامی لٹریچر پیش کرنے کو تیار ہیں) ہم یہ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ بہاء اللہ نے قرآن کے منسوخ ہونے کا اعلان کیا کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے ختم ہو جانے کا اعلان کیا اور اپنے خدا کے مظہر ہونے کا اعلان کیا اوربہاء اللہ کی قبر کو سجدہ کرنے کو ان کے نائب عبد البہاء نے جائز کہا ہے۔بہاء اللہ کے اتباع سینکروں کی تعداد میں کراچی میں موجود ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں پاکستان کے دوسرے حصوں میں موجود ہیں کیا ان لوگوں کے خلاف علماء نے فتوے دیئے۔کوئی ہنگامہ برپا کیا۔اور ایجی ٹیشن کئے اور کب کیے راگر جو عقائد ہم نے بہائیوں کی طرف منسوب کیے ہیں اس بیان کی صحت سے علماء کو انکار ہو تو ہم لٹریچر پیش کرنے کو تیار ہیں)۔ه - شیعہ مذہب کی رو سے حضرت ابو بکرین - حضرت عمر۔حضرت عثمان " تینوں فاسق تھے۔صحابہ کی اکثریت فاسق تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو یاں بھی قابل اعتراض تھیں۔کیا علماء نے ایسے عقیدے رکھنے والوں کے خلاف کوئی احتجاج کیا یا ان عقائد کو برداشت کے قابل سمجھ لیا اگر شیعہ عقائد کے متعلق ہمارا یہ بیان غلط ہے تو ہم شیعہ لٹریچر سے اس کے حوالے پیش کرنے کو تیار ہیں۔ہم یہ بھی لکھ دینا چاہتے ہیں کہ شیعوں کا ایک اگر وہ جو اقلیت میں ہے۔ان عقائد سے پاک ہے۔کیا علماء کو یہ معلوم ہے کہ نہیں ہے کہ شیعہ مذہب کے عقیدہ میں رجعت کا ایک عقیدہ ہے جس کی رو سے امام مہدی کے زمانہ میں تمام انبیاء دوبارہ ظاہر ہوں گے اور ان کی اطاعت کریں گے اور تمام صحابہ کو زندہ کیا جائے گا اور ان کو کوڑے لگوائے جائیں گے۔کیا علماء کے نزدیک یه عقیده اشتعال دلانے والا نہیں۔اگر ہے تو اس کے خلاف انہوں نے کیا اجتجاج کیا اور کی ہنگامے کیے۔ے۔کیا علماء کے نزدیک مسیح ناصری نہ ندہ ہیں اور دوبارہ دنیا پر آئیں گے اور کیا دہ اس وقت نبی ہوں گے یا نہیں ہوں گے اور ان کے منکر مومن ہوں گے۔کافر ہوں گے اگر کافر کہلائیں گے تو کیا ان کے