تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 324 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 324

خلاف احتجاج اور ہنگامہ خیزی جائز ہو گی۔اور کیا اس عقیدہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی تنک ہے یا نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کے دل دیکھتے ہیں یا نہیں۔ہم ان سوالات سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ احمدیوں کے متعلق اگر کوئی بات ہے تو وہ پرانی بات ہے نئی پیدا نہیں ہوئی تین سال سے کوئی ایسا لٹریچر شائع نہیں ہوا جس سے قیاس بعید کر کے بھی ایسے الفاظ نکالے جاسکیں۔دوسرے احمد یہ جماعت کی طرف سے کوئی ایسا لفظ میں کو کھینچ تان کر بھی اشتعال انگیز کہا جا سکے اس وقت تک استعمال نہیں کیا گیا۔جب تک سال تک متواتر خلاف اخلاق۔خلاف شریعت - خلاف انسانیت الفاظ احمدیوں کے خلاف استعمال نہیں کیے گئے۔۔یہ کہ اس کے مشابہ صورتیں مسلمانوں کے ہر فرقہ میں پائی جاتی ہیں۔لیکن علماء نے اس پر کوئی ہنگامہ خیزی ہوئی جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ احمدیت کے خلاف شورش محض سیاسی تھی اور محض ظفر اللہ خاں کے وزیر ہونے کی وجہ سے متقی اور سیاسی اعراض کے ماتحت سیاسی لوگوں نے شروع کروائی تھی۔یہ کہ ایسے لٹریچر کے متعلق شور کرنا جو کبھی بھی مسلمانوں میں شائع نہیں کیا گیا بلکہ صرف احمدیہ جماعت کے دو فرقوں کے اختلاف کے متعلق پرائیویٹ طور پر شائع کیا گیا اور میں میں استعمال ہونیوالے الفاظ ان اصطلاحات کے مطابق نہیں تھے جو کہ مسلمانوں میں رائج ہیں بلکہ ان اصطلاحات کے مطابق تھے جو کہ صرف احمدیوں کے نزدیک مسلمہ تھیں اس لٹریچر کے غلط معنے کرنے اور ان اصطلاحات کے وہ معنے کرنے جو کہ اس وقت عام مسلمانوں میں رائج تھے مگر احمد می ان معنوں کے خلاف تھے صاف بتاتا ہے کہ اشتعال کی وجہ موجود نہیں تھی بلکہ اشتعال پیدا کیا گیا اور عوام انساس کو بھڑ کا یا گیا۔اگر اشتعال حقیقی ہوتا تو وہ عوام الناس میں پہلے ہوتا مگر یہ اشتعال تو کئی سال جیسے کہ کر کے شہر بہ شہر پھر پھر کے مولویوں نے پیدا کیا اور غلط باتیں منسوب کر کے پیدا کیا۔“