تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 322 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 322

۳۲۱ عزیزم /۸/۵۳ السلام علیکم ورحمته الله وبرکاته سکل ڈاک اور سول سے میں یہ حیرتناک خبر ملی کہ کمیشن نے مولویوں والے سوالات احمدیوں سے کچھ ہیں۔آج تار تو دے دی گئی ہے مگر نہ معلوم تار کے راستے خراب میں پہنچے گی یا نہیں۔اب آدمی کے ہا تھے یہ خط بھجوایا جا رہا ہے۔مرے نزدیک فوراً کمیشن کے سامنے یہ درخواست دے دینی چاہیئے۔اس علماء سے یہ سوال کیا جائے۔کیا جماعت کے بانی اور جماعت احمدیہ پر کفر - امتداد - زندیقیت۔الحاد۔بے ایمانی - جنانت - شرارت بشیطان کے چیلے ہونے ابو جہل کی نسل سے ہونے۔ان کے نکاحوں کے ٹوٹنے۔ان کی اولا د ولد الہ نا ہونے ان کے مسجدوں میں داخل ہونے سے مسجد کے پلید ہو جانے۔ان کے مقبروں میں دفن ہونے کے جائز نہ ہونے اور اگر دفن ہو جائیں تو مرد نے نکال کر باہر پھینک دینے کے فتوے علماء نے الہ اور اس کے بعد دیتے ہیں یا نہیں اور اگر احمدیوں نے ان کے ان فتووں کا کوئی جواب دیا ہے تو کیا پورے دس سال ان فتووں کے سننے کے بعد نہیں دیا۔داگر علماء کو انکار ہو تو ہیں یہ فتوے پیش کرنے کی اجازت دی جائے) کیا مسلمانوں کے ہر فرقہ کے دوسرے فرقہ کے خلاف کفتر الحاد منہ فقہ - ارتداد وغیرہ کے فتوے موجود نہیں ہیں۔لاگر علماء کو انکار ہو تو ہم کو یہ فتوے پیش کرنے کی اجازت دی جائے) کیا خوارج جن کی عمان میں بھی حکومت تھی اور نہ بنجار میں بھی حکومت ہے اور جن کے ساتھ پاکستان کے دوستانہ تعلقات ہیں اور جن کے ہم مذہب افراد کراچی میں بھی موجود ہیں۔کیا ان کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ ہر کبیرہ گناہ کا مرتکب کا فر ہو جاتا ہے اور جہنمی ہوتا ہے اور یہ کہ حضرت عثمان منی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کبائر کے مجرم تھے اور اس وجہ سے ان کے آباء نے حضرت عثمان کو مسلمانوں کے مقبرہ میں دفن ہونے سے روک دیا تھا۔آخر کئی دن کے بعد رات کے وقت مقبرہ کے کونے میں ان کو دفن کیا گیا۔کیا ان لوگوں کے خلاف اور ان کی حکومتوں کے خلاف علماء نے فتوے دیئے شه بهروز نامہ سول اینڈ ملٹری گزٹ“ لاہور سے یہ سات سوالات تھے جن کے جوابات حضرت مصلح موعود نے تحریر فرمائے تھے جیسا کہ آگے ذکر آرہا ہے۔