تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 272
کریم ملک عبد الرب صاحب (ابن حضرت ملک غلام نبی صاحب) ساکن دوسری شہادت را با قیمت عزب ربوہ کا تحریری بیان ہے کہ یہ ۱۹۵۳ء میں جبکہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ) اور حضرت مرز ا شریف احد صاحب کو قید کیا گیا۔میں اُس وقت مجھ جھیل (بلوچستان) میں تھا۔ازاں بعد مجھے سنٹرل جیل لاہور میں منتقل کیا گیا۔چند دنوں کے بعد مجھے راشن کا منشی بنا دیا گیا۔میرے ہمراہ دو غیر احمدی نے جن کی ڈیوٹی جھیل میں مولانا اختر علی خاں صاحب کے ساتھ تھی۔انہوں نے ایک روز مجھے بتایا کہ حضرت صاحب رحضرت خلیفة المسیح الثانی کے بیٹے اور بھائی بھی یہاں قید ہیں تو میں دوڑتا ہوا احضور کی کو مھری کی طرت گیا چونکہ میں منشی تھا اس لیے مجھے آنے جانے میں کوئی کہ دک نہ تھی۔مجھے جیل میں میں چاہتا تھا کہ مجھے لاہور جیل منتقل نہ کیا جائے مگر یہ خدائی تصرف تھا کہ مجھے اُن دنوں لاہور سنٹرل جیل میں لے جایا گیا جبکہ حضورا در میاں شریف احمد صاحب بھی وہاں تھے۔اس طرح خدا نے حضور سے ذاتی تعلق کا ایک موقعہ پیدا کر دیا۔آپ کا کمرہ بہت چھوٹا سا تھا۔میں روزانہ ملاقات کے لیے جاتا۔اپنے کام سے فارغ ہو کہ میں حضور کے پاس جا کر بیٹھارہ بہتا۔حضور اور حضرت مرزا مشریف احمد صاحب کے چہرے پر کرب، گھیرا ہٹ یا بے چینی کا کسی قسم کا تاثرمیں نے نہیں دیکھا۔ہر وقت حضور کا چہرہ مہشاش بشاش رہتا تھا۔حضور زیادہ تر اپنے کمرہ میں ہی رہتے یا کبھی کبھار کو مٹھڑی سے باہر چھوٹے سے صحن میں ہوتے۔کئی مرتبہ جب حضرت مرزدہ الشریف احمد صاحب کو دبانا چاہا۔میاں صاحب حضور کی طرف اشارہ کر کے فرماتے کہ میری بجائے میاں صاحب کو دباؤ“ اس وقت تو اس اشارہ کا مطلب پتہ نہ چلا مگر ۱۲ سال بعد جبکہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب مسند خلافت پر متمکن ہوئے حضرت مرزه الشریف احمد صاحب کی خدا داد بصیرت کا پتہ چلا۔چنانچہ اس طرح قریباً روزانہ ہی حصورہ کو دبانے کا موقعہ ملتا۔حضور اکثر اپنے راشن کا کچھ حصہ جو بسکٹ اور گھی وغیرہ پیش تمل ہوتا خاکسار کو مرحمت کے تاریخ وفات یکم جنوری ۶۱۹۸۰