تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 273
فرما دیتے۔حضور کی رہائی کے چند دن بعد ہم بھی رہا کر دیئے گئے حضورہ اس وقت رتن باغ میں تھے حضور کو اطلاع ہوئی تو حضور نوراً تشریف لے آئے۔حضور کے ہاتھوں پر راکھ تھی یوں محسوس ہوتا تھا کہ حضور خود برتن دھوتے دھوتے تشریف لے آئے ہیں۔حضور نے خود ہی پانی وغیرہ بنا کہ ہمیں پلایا کیونکہ حضرت بیگم صاحبہ ہسپتال میں بیمار تھیں۔جیل کے دنوں کی رفاقت کی وجہ سے حضور نے قبل از خلافت اور بعد از خلافت حبس شفقت اور محبت کا سلوک مجھ سے فرمایا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔مجھے اتنا پیار میرے والدین نے بھی شاید نہ دیا ہو۔چنا نچہ جب بھی حضور سے ملا تو حضور نے اپنے رفقاء سے میرا تعارف" جیل کے ساتھی" کے نام سے کہ دایا۔جب حضور سے ملنا ہوتا اکثر بغیر نام لکھوائے حضور سے ملا اور یونی حضور کو میری آمد کی اطلاع ہوئی محضور نے فوراً مجھے شرت ملاقات بخشا۔اسی طرح حضور نے سہ میں میری شادی کے موقعہ پر میری برات میں بھی شرکت فرمائی اور از راه شفقت دعوت ولیمہ میں بھی شرکت فرمائی۔یہ اسی خاص تعلق اور شفقت کا بھی نتیجہ تھا کہ جب میری دوسری بچی پید ا ہوئی اور میں نام کھانے کے لیے حاضر ہوا تو حضور نے دریافت فرمایا کہ دوسری بھی بچی پیدا ہوئی ہے۔اب لڑکے کے لیے دعا کریں ؟ائیں نے عرض کیا کہ ضرور چنانچہ حضور نے دعا فرمائی اور دسمبر سالہ کو الله کے فضل اور حضور کی خاص دعاؤں کے نتیجہ میں بچہ پیدا ہوا جس کا نام حضور نے اند راہ کرم ملک عبد القیوم" رکھا۔حضور کی عنایات اور محبت کا کہاں تک ذکروں کہ سفینہ چاہیئے اس بحر بیکراں کے لیے۔والسلام ملک عبدالرب ۱۰ اکتوبر ۶۱۹۸۰