تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 271 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 271

۲۶۹ سے محروم ہو گئے جس کے باعث ہم مسلول بھی تھے۔مگر اب ہمارے حوصلے اتنے بلند تھے کہ ہمارے لیے جو کچھ بھی ہونے والا متاہم اس کے لیے انشراح صدر سے پوری طرح تیار تھے۔یہ بات کیسے نہیں معلوم کہ جب کسی پر کیس بن جائے تو خواہ پیر ہو یا فقیر، سیاست دان ہو یا عالم دین کوئی کاروباری انسان ہو یا ملازم وکیل صاحبان ان کو جیسے جیسے بیان پڑھاتے اور سکھاتے ہیں۔ساتھ کے ساتھ دیسی ہی تبدیلیاں اُن کے بیانوں میں ہوتی چلی جاتی ہیں۔کیونکہ ان کی عرض تو صرف سزا سے بچنا ہوتا ہے۔خواہ اس سے بچنے کے لیے کتنا ہی جھوٹ بولنا پڑے۔مگر ہمارے کیس تو مارشل لاء کے کیس تھے۔اور پھیر ۱۹۵۲ء کے مارشل لاء کے جس میں سزا ایسی دی جاتی تھی کہ سننے والوں کے سن کر ہی دل دہل جاتے تھے۔ایسے وقت میں ہمیں ان دنوں بزرگوں کی طرف سے ہمیشہ یہ تلقین کی جاتی کہ صرف سچ ہی بولنا ہے۔خواہ کتنی بھی سزا کیوں نہ ہو جائے۔یہ صرف اللہ تعالیٰ کے ایسے برگزیدہ بندوں ہی کا شیوہ ہوتا ہے۔جن کی نگا ہوں میں اپنے اب کی رضا کے حصول کے سوا کوئی شے نہ ہو۔یہ خدا کا فضل ہے کہ آپ کے ارشادات کے مطابق اس عاجز کو سچ ہی بولنے کی توفیق ملی۔اور جھوٹ بولنے والوں کا منہ سیاہ ہوا۔یہ عاجز تین دن کے بعد ہی رہا ہو گیا اور حضرت میاں صاحبان کو سزائیں سنا دی گیئیں اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی دن خواب میں ظاہر فرما دیا تھا۔عین اسی کے مطابق یہ عاجز تو اینٹروگیشن interogationi) میں رہائی پا گیا اور حضرت میاں صاحبان چند ماہ بعد رہا ہو گئے۔میں نے ان تین دنوں میں ان پاک وجودوں سے یہ سیکھا کہ کس طرح استقلال کے ساتھ مصائب کا مقابلہ کیا جاتا ہے اور پھر یہ دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالے احق کی حمایت کرتا ہے یہ دن جماعت کے ہر ایک فرد کے لیے بے حد آزمائش کے دن تھے سر دل بے چین اور سر آنکھ خدا کے حضور گریاں تھی، مگر مومن کسی طرح ان آنہ مائشوں سے گزرتے ہیں۔اس کا صحیح نموندان دو پاک وجودوں میں ہم نے پایا۔ان دونوں وجودوں نے ایسے ایسے طریقوں سے سچ کی تلقین فرمائی کہ ہمیں سچ مچ ایک مضبوط اور مستحکم چٹان بنا دیا اے ت خالد ربوه اسید نا ناصر نمبر ص ۲۲۵ تا صد ۲۵