تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 264
۲۹۲ بنے گی لیکن اس کے باوجود بے چینی تھی کہ ہر لمحہ بڑھ رہی تھی۔وہاں سے ہمیں ایک ڈک میں بٹھا کر جیل کی طرف لے گئے۔حضرت میاں ناصر احمد صاحب نے لڑک میں بیٹھتے ہی بلند آوازہ میں قرآنی دعا لا إلهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ اتظیمین کاکا درد شروع کر دیا۔جبس سے دلوں میں سکینت و اطمینان کی لہر دوڑنا شروع ہوگئی۔عمر کے لحاظ سے حضرت میاں شریف احمد صاحب ہم سب میں بڑے تھے اور صحت کے لحاظ سے بھی کمز ور دیگر حوصلہ کے اعتبار سے از ما مضبوط او مستحکم کہ جب ہمارے چہروں کو پریشان یا ہیں اضطراب سے دعائیں کرتے دیکھتے تو فوراً ہماری دلی گھبراہٹ کو بھانپ جاتے اور حضرت میاں ناصر احمد رحمہ اللہ تعالیٰ صاحب سے فرماتے یہ بچے تو مجھے دل چھورتے معلوم ہوتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کریں۔چنانچہ حضرت میاں صاحب ہمیں اپنے مخصوص انداز میں ہر آنے والے وقت کے لیے تیار کرتے رہتے۔مجھے ان کی یہ ادا کبھی نہیں بھولے گی کہ جب ہم میں سے ایک نوجوان نے اپنے بیان میں کسی قدر جھوٹ ملایا تو حضرت میاں شریف احمد صاحب بیاب ہو گئے۔اس کے بعد آپ بار بار فرماتے کہ اب یہ سزا سے نہیں بچ سکتا۔اس نے اپنا ثواب بھی ضائع کر لیا۔اور پھر ہم میں سے ایک ایک سے مل کہ فرماتے، بیٹا ہم خدا کی خاطر یہاں آتے ہیں۔یہ ہمارے ایمانوں کی آزمائش ہے۔اگر ہم آزمائش میں پورے نہ اترے تو ہم جیسا بد نصیب کوئی نہ ہو گا۔اور اگر اس نمائش میں کامیاب ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں گے اگر ہم نے جھوٹ بولا تو اس کی نصرت سے محروم ہو جائیں گے خواہ کتنی بڑی سزا مل جائے مگر پیسے کا دامن کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑنا۔اللہ اللہ کیسی صداقت شعار تھیں یہ ہستیاں کہ جہان بڑے بڑے جبتہ پوش اور دیندار سمجھے جانے والے لوگ بڑے بڑے جھوٹے گھڑتے ہیں اور حیلوں بہانوں کا ایک طومار باندھ کر اپنے جرم پر پر وہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں وہاں بھی یہ ہمیں ہر حالت میں اور ہر قیمت پر سچ بولنے کی تلقین فرماتی تھیں۔آپ نے ہمیں اس تکرار سے اس بات کی تلقین کی کہ بعض دفعہ یوں محسوس ہوتا جیسے آپ کو اس معاملہ میں کچھ درہم سا ہو گیا ہے۔ایک دفعہ میں نے عرض کیا کہ حضرت میاں صاحب ! آپ میری طرف سے بالکل مطمئن ہیں کیونکہ میر اکیس ہی ایسا ہے کہ بغیر بیج بوئے میرا گزارہ ہی نہیں اور دوسرے مجھے جھوٹ بولنا آتا ہی نہیں۔آپ اطمینان رکھیں ہیں انشاء اللہ ہر حال میں پہنچ ہی بولوں گا۔