تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 265
۲۹۳ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نفرت تو اسی لمحہ میں ہمارے ساتھ ہو گئی تھی جب مارشل لاء حکام کے ذہن میں خیال بھی گزرا ہو گا کہ اب گرفتاریوں میں توازن قائم رکھنے کے لیے جماعت احمدیہ کے افراد کو بھی پکڑا جائے۔بلکہ یہ جسارت بھی کہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی ہاتھ ڈالا جائے ہمارے گھر سے مارشل لاء والے در اصل بھائی جان رثاقب زیر دی) کو گر فتار کرنے کے لیے آئے تھے مگر قدرت نے مجھ سے ایک ایسی غلطی کروائی جس سے ان کی ساری توجہ میری طرف منتقل ہو گئی اور مجھے گرفتار کر لیا گیا اور باوجود ارادے اور پروگرام کے بھائی جان رثاقب زیر وی پر ہاتھ نہ ڈال سکے۔اس کے بعد مجھے ڈک میں بٹھا کر میڈیکل ہوسٹل نیلا گنبد کے کیمپ میں لایا گیا وہاں ایک اور احمد می نوجوان مکرم محمد یکی صاحب رجو غالباً حکیم محمد حسین صاحب مرہم بھلے والے) کے خاندان سے تھے۔سے طاقت ہوئی۔ہم دونوں نے مل کر ظہر کی نمازہ باجماعت ادا کی اور خوب گریہ وزاری سے دعا کی توفیق علی جیس سے ذہنی بوجود قدیر سے ہلکا ہوا۔عصر کے بعد ہمیں باہر لایا گیا۔توان دو مقدس ہستیوں کی زیارت ہوئی تو انہیں دیکھ کر لوں کو ایک گونہ تسلی ہوئی کہ ہم اکیلے نہیں ہیں ہمارے ریسندگا ر بھی ہمارے ساتھ ہی ہیں۔جیل کے سامنے گاڑی سے اترتے ہی میرے شہر کے ایک دوست میرے سامنے تھے جن کے ذریعہ بھائی جان کو فوری طور پر یہ اطلاع مل گئی۔کہ ہم کہاں ہیں اور کرفیو کے باوجود انہوں نے فورا ہی وہ اطلاع حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کو پہنچا دی جیل میں ہمیں ایسی کو مٹھڑیوں میں بند کیا گیا جن کے سامنے والی کو بھڑیوں میں ایسے پابجولاں قیدی بند تھے جن کو عدالتوں کی طرف سے " سزائے موت سنائی جا چکی تھی اور اب وہ اپنی اپیلوں کے فیصلوں کے انتظار میں تھے۔لہذا وہ ساری رات وقفہ وقف سے مختلف قسم کے دعائیہ نعروں میں گزارتے اور اس طرح ہمیں بھی دُعا کی طرف متوجہ کرتے رہتے۔پہلی رات نہایت ہی کرب میں گزری صبح ہوئی ہمیں ان کو پٹھڑیوں سے باہر نکالا گیا ہم ضروری حاجات سے فارغ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہوئے۔اور باہر اپنے کمبل بچھا کر بیٹھ گئے حضرت میاں ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے میری اُداسی دیکھ کر فرمایا سورۃ ملک یاد ہے؟ میں نے عرض کیا کہ حضور یا د ہے فرمایا سنا و چنانچہ اس عاجز نے سُنائی۔پھر فرمایا کوئی خواب