تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 263 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 263

۲۹۱ لطف یہ کہ پتہ نہیں وہ کپڑے کس سے اور کہاں سے لائے گئے تھے۔چنانچہ ہم نے وہ کپڑے پہنے تو زور سے سانس لینے پر ان کے دھاگے ٹوٹ گئے اور سلائی کھل گئی یوں لگتا تھا کہ چھوٹی چھوٹی گڑیوں کو پہنانے والے کپڑے ہیں تم نے کہا ہم راضی برضائے الہی ہیں۔لے پہلی چشم دید شهادت اس سلسلہ میں دو اور اہم چشم دید شاد میں دریا کی جاتی ہیں۔پہلی اور تفصیلی شہادت تکریم محمد بشیر صاحب زیروی کی ہے آپ تحریر فرماتے ہیں کہ : جس دن میری گرفتاری ہوئی اسی دن حضور انور اور حضرت میاں شریف احمد صاحب کی گرفتاری عمل میں آئی جس کے بعد چند دن ہم نے اکٹھے سنٹرل جیل میں گزارے اور بفضلہ تعالیٰ ان پر استوب دنوں کا ایک ایک لمحہ رجو آپ کے ساتھ گزرا) میرے لیے ہمیشہ ہی انہ دیا دائمیان کا باعث ہوا آج کی صحبت میں اپنی یادوں کا دہرانا مقصود ہے۔جس دن جماعت کے بعض اکابر کے گھروں کی تلاشیاں اور گرفتاریاں ہوئیں۔اسی دن بھائی جان ناقت اس زیدی کے گھر اور دفتر کی بھی تلاشی ہوئی۔ان میں اس عاجبتہ کے علاوہ حضور پر نور اور حضرت صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب بھی تھے۔جب ہمیں میڈیکل ہوسٹل کے نیلا گنبد کے بڑے گیٹ پر کھلے کیم پسے لیکر جیل بھیجنے کے لیے کٹھا کیا گیا تو وہاں اس عاجز کی ملاقات حضرت میاں صاحبان سے ہوئی۔دیکھتے ہی زمین پیروں تلے سے نکل گئی اور ذہن پر بوجھ اور بڑھ گیا اور رت ہے۔لیکن جلد اپنا سارا دکھ بھول کر سارا ذہن اس طرف منتقل ہو گیا کہ حکام کی یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ہی دل نے یہ کہ کر حوصلہ بڑھایا۔کہ ان کا آنا ہم سب کے لیے بابرکت ثابت ہوگا کیونکہ ہم بھی اب اس زمرے میں شامل ہوں گے جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل نازل ہوں گے۔نیز اگر جیل میں ایک ہی جگہ ہوئے تو آپ کی مقبول دعاؤں سے حصہ پائیں گے اور ان کے طفیل اس مصیبت سے جلد چھٹکارا حاصل ہو گا۔رفتہ رفتہ یہ احساس پختہ ہو گیا کہ آپ کی گر فتار می تجاری رستگاری کا باعث له الفضل ۲۲ نومبر ۱۹۷۳ : صفحه نمبر ۳