تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 253
۲۵۱ تو میں سیڑھیوں میں آگیا اور اندر سے دروازہ بند کر لیاگیا۔حضور نے مشرقی بر آمدہ میں ان سے ملاقات کی۔تھوڑا عرصہ کی خاموشی کے بعد جب کچھ خوش گفتاری اور ہنسنے کی آوازیں میرے کانوں میں آئیں تو میرے دل کو کسی حد تک تسلی ہوئی۔بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حضرت صاحب کے مکان کی تلاشی لیتے آئے تھے۔D۔S۔P صاحب تکلفت برتتے تھے کہ وہ تو مجبوراً حکومت کے احکام کی تعمیل میں آگئے ہیں اور نہ تلاشی کی ضرورت نہیں۔لیکن حضور نے ان کو مجبور کیا کہ اگہ تلاشی لیے بغیر لکھ دیں گے کہ آپ نے تلاشی لی ہے تو حضور نے فرمایا میں حکومت کو اطلاع دے دونگا کہ انہوں نے فرمنی رپورٹ کی ہے تلاشی نہیں لی چنانچہ انہوں نے اپنے ہمرا ہی انسپکٹر کو کہا کہ وہ تلاشی ہے چنانچہ اس نے تلاسنٹی کی تاکہ ان کی رپورٹہ درست ہو یا ٹ خود حضرت خلیفة المسیح الثانی المصلح الموعود نے ۵ ار اگست ۱۹۵۸ء کے خطبہ جمعہ میں اس اہم واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ : انہی ایام میں جب کہ ابھی فتنہ کے آثار باقی تھے۔سپرنٹنڈنٹ پولیس ضلع جھنگ ڈی۔الیں۔پی کو ساتھ لے کر میرے مکان کی تلاشی کے لیے آئے چونکہ سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈی۔ایس۔پی سے گورنرپنجاب کے نوٹس والا واقعہ سن چکے تھے۔اور وہ دیکھ چکے تھے کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے چند دنوں کے اندر اندر میری بات کو پورا کر دیا۔ادریسٹ چندریگر کو پنجاب سے رخصت کر دیا گیا۔اور پھر اس سے پہلے میری طرف سے یہ بھی شائع ہو چکا تھا کہ میرا خدا میری مدد کے لیے دوڑا چلا آرہا ہے اس لیے وہ اتنے متائثر تھے کہ مجھے کہنے لگے ہمیں حکم تو یہ ہے کہ عورتوں والے حصہ کی بھی تلائٹی لی جائے گمہ مجھے کسی تلاشی کی ضرورت نہیں میں گورنمنٹ کو لکھ دوں گا کہ میں نے تلاشی لے لی ہے۔میں نے کہا اگر آپ ایسا میں گے تو میں اخبار میں اعلان کر دوں گا یہ بالکل غلط ہے۔انہوں نے کوئی تلاشی نہیں لی۔آپ اندر چلیں اور ایک ایک چیز کو دیکھیں تاکہ آپ کے دل میں کوئی شبہ نہ رہے چنانچہ وہ اندر گئے اور انہوں نے ڈپٹی سپر فنڈنٹ پولیس سے کہا کہ رہ کا غذات کو دیکھ لیں یا ہے۔نه غیر مطبوعه خط مولوی عبد الرحمن صاحب انور سه خطبہ جمعہ حضرت خلیفة المسیح الثانی فرموده ۱۹۵۸ د بحواله روز نامه الفضل در ستمبر ۱۹۵۸