تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 252
چوہدری صاحب کا یہ پیغام ربوہ آتے ہی حضورہ کی خدمت میں دے دیات نے یکم اپریل ۱۹۵۳ء کا واقعہ ہے کہ جناب ابراراحمد صاحب سپرنٹنڈنٹ قصر خلافت کی تلاشی صاحب پولیس ضلع جھنگ مع ڈی ایس جھنگ بھاری گارد کے ساتھ قصر خلافت میں آگئے۔چونکہ حضرت مصلح موعود کی عظیم شخصیت ان دنوں احیاہ کے ہم نوا افسروں کی تنقید کا اصل مرکز بنی ہوئی تھی اور آپ کا وجود مقدس مخالفین احمدیت اور دشمنان پاکستان کی نگاہ میں خار کی طرح کھٹک رہا تھا اس لیے ضلع کے ایک ذمہ دار پولیس افسر کی من گارد آمد تے عام طور یہ سمجھا گیا کہ حکومت حضرت مصلح موعود کو گرفتار کرنا چاہتی ہے مگر جیسا کہ بعد میں پتہ چلا پولیس افسر صاحب گرفتاری کے لیے نہیں۔بلکہ قصر خلافت کی تلاشی کے لیے بھجوائے گئے تھے۔چنانچہ مولوی عبد الرحمن صاحب انور کر پرائیویٹ سیکر ٹری حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا چشم دید بیان ہے کہ :۔۱۹۵۳ میں جب۔D۔S۔P صاحب دیده قصر خلافت میں آئے اور پولیس کی گار بھی آئی متقی خطرہ تھا کہ کہیں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو گرفتار کرنے کا منصوبہ نہ ہو۔انہوں نے حضور سے ملاقات کا کہا۔حضور نے احتیاطاً حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو بھی ساتھ ہی بلانے کا فرمایا۔جب D۔S۔P صاحب کو جو لدھیانہ کے شہزادہ فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔اور یہ بلانا تھا تو اس سے پہلے حضور نے مجھے یاد فرمایا میں اس وقت پرائیویٹ سیکرٹری تھا۔میں سیڑھیوں سے چڑھ کر مشرقی برآمدہ میں اوپر گیا جہاں حضور بیٹھ کر ملاقات فرما یا کرتے تھے حضور سامنے کے کمرہ سے جو حضور کا بیڈروم تھا۔مجھے اسی کمرہ میں لے گئے۔پھر کمرہ سے نکل کر غربی لیے برآئندہ میں ساتھ لے گئے اور مجھے فرمایا کہ میں تم کو صرف اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ خطرہ ہے کہ یہ لوگ مجھے گرفتار کرنے نہ آئے ہوں۔اس لیے تم اپنی ذمہ داری کو سمجھنا کہ تم میرے پرائیویٹ سیکرٹری ہو۔اور صرف اس قدیر فرماکر حضور مجھے واپسی شرقی جانب کے بہ آمدہ میں لے آئے اور فرمایا : S-P ، صائب F کو بلا لو۔چنانچہ ۲۰۰۴ صاحب آئے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی ہمراہ تھے۔وہ اندر گئے له غیر مطبوعہ مکتوب جناب ملک محمد عبد الله صاحب ربوده (مورخه ۲۰ مارچ ۶۱۹۷۵ )