تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 250
۲۴۸ کو آرہا ہے وہ چلا آرہا ہے وہ روڑ تا آرہا ہے۔اس پر حکومت نے مجھے نوٹس دیا کہ تم نے ایسا کیوں کہا ؟ اس سے دوسرے لوگوں کو اشتعال آیا ہے۔ہاں نوٹس دینے والے افسر نے اپنی اصلاح کر لی کہ اس نے کہا تم احمدار کے متعلق کوئی ذکر نہ کرو۔اگر وہ مجھے یہ حکم دیتے کہ تم خدا تعالیٰ کے متعلق یہ نہ کہو کہ وہ مرد کو آرہا ہے یا یہ کم کردہ مدد کو نہیں آتا تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس بات کو تسلیم کر لینے پر آمادہ نہ کر سکتی۔اس لیے کہ وہ اس طرح کا حکم دے کہ قرآن کریم پر حکومت کرنا چاہتے اور یہ ایسا حکم تھا جس کا اتنا جائنہ نہ ہوتا۔اگر کو ئی حکومت یہ کہے کہ تم خدا تعالیٰ کو ایک نہ سمجھو تو ہم کہیں گے عقائد کے بارے میں تمہاری حکومت نہیں چلتی۔تمہاری حکومت ایسے امور میں چلے گی جو دنیوی ہوں۔مثلاً کسی کا یہ عقیدہ ہو کہ تم لوگوں کو خوب مارو تو حکومت اس پر ایکشن لے سکتی ہے لیکن اس لحاظ سے نہیں کہ وہ ایسا عقیدہ کیوں رکھتا ہے بلکہ اس وجہ سے کہ وہ اس عقیدہ کو عملی جامہ پہنا رہا ہے حکومت اعمال پر کنٹرول کر سکتی ہے عقائد پر نہیں۔قرآن کریم میں بہت زیادہ زور ماں باپ کی اطاعت پر دیا گیا ہے لیکن جب عقیدہ کے بارے میں ان کی بات بھی نہ ماننے کا حکم ہے تو اور کسی کی بات کیوں مانی جائے۔پس جو چیزی خدا تعالی کی طرف سے فرمن کی گئی ہیں انہیں پورا کر و۔جب انسان ایسے امور میں دخل دے جن میں اسے دخل نہیں دینا چاہیئے تو اس کی اطاعت ست کرو لیکن اگر کوئی حکومت یا فردا اپنے غرور میں آکر کہے کہ میں ان میں ضرور دخل دوں گا تو پھر جیسے کہا جاتا ہے کہ ملاں کی دوڑ میت تک تو مومن خدا تعالیٰ کے پاس چلا جاتا ہے اور مسجد کسی ماں کو بچاتے یا نہ بچائے خدا تعالیٰ اپنے مومن بندہ کو مزدور بچا لیتا ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو نہایت واضح ہے۔پس ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ یہ یقین رکھے کہ خدا تعالیٰ اسے بچائے گا چاہے کوئی اسے پھانسی یہ ہی چڑھا دے وہ پھانسی پر بھی یقین رکھے کہ خدا تعالیٰ اُسے بچائے گا۔جب تک کوئی شخص اس قسم کا یقین نہیں رکھتا اس کا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا ہے (حاشیہ اگلے صفحہ پر)