تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 226 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 226

۲۲۷ اُن کا حج اور اس عبارت کا کیا مقصد ہے ؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے قلم مبارک سے آج اس کا مندرجہ ذیل جواب قسم فرمایا ہے :۔یہ تقریر اسی ہی ہے جیسے کہ رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا اُس کی نمانہ نہیں ہوتی حالانکہ سارے حنفی سورہ فاتحہ نہیں پڑھنے۔بعض دفعہ زور دینے کے لیے یہ الفاظ کہے جاتے ہیں اور مراد صرف یہ ہوتی ہے کہ لوگ مغز کی طرف توجہ نہیں دیتے۔یہی مراد اس تقریر کی ہے یعنی عام طور پر مسلمان نماز جلد جلد پڑھتے ہیں حج کو غریب جاتے ہیں۔جن پہ حج فرض ہے وہ نہیں جاتے۔پس مراد یہ نہیں کہ مسائل الگ الگ ہیں بلکہ نمازہ۔حج۔زکواۃ ہماری اور دوسروں کی ایک ہے۔میری تقریر کا منشاء اس بات پر نہ دور دیتا ہے کہ ان لوگوں میں اسلام کی شرائط پوری کرنے کی طرف سے سستی ہے تم شرائط کو پورا کرو " براہ کرم اپنی اور جملہ احباب کی خیریت سے اطلاع دیں اور مندرجہ بالا کتوب ان تک پہنچا کہ شکریہ کا موقعہ بخشیں۔اللہ تعالیٰ آپ سب یہ اپنی بے انتہا رحمتوں کے دروازے کھولے اور مشکلات و مصائب کے راستے ہمیشہ کے لیے بند کر دے۔آمین۔على والسلام ناظر دعوة و تبلیغ ربوده ۳-۳-۱۹ بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى عن رسوله الكريم والسلام على عبد المسيح الموعود برادرم با السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ سید نا حضرت خلیفة المسیح ایدہ اللہ نصرہ العزیز کی صحت کے متعلق تازہ ترین رپورٹ یہ ہے کہ پاؤں کا زخم مندمل ہورہا ہے اور دوسرے عموار من میں بھی افاقہ ہے ؛ فالحمد لہ علی ذالك آج حضور پر نور نے نہایت ہی لطیف پیرایہ میں دوستوں گھر دعا اور انایت الی اللہ کی طرف توجہ دلائی اور ارشاد فرمایا کہ تمارا فرض ہے کہ ہم خوشی تمنی ، رینج و راحت اور عمر بسر میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہی رجوع کیا کریں اور سر حال میں اُسی سے مدد و نصرت کے طلب گار ہوں کیونکہ وہی