تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 227
۲۲۵ ہمارا سہارا ہے۔حضور نے خطبہ کے آغانہ میں فرمایا کہ دنیا میں جب کبھی کسی شخص کو کوئی تکلیف یا خوشی پہنچتی ہے تو وہ اپنے دوستوں اور عزیزوں کی طرف دوڑتا ہے اور فطرتا چاہتا ہے کہ وہ انہیں بھی اپنے یہ پیج اور راحت میں شریک کرے۔اسی فطری جذبہ کے ماتحت شادی بیاہ پر تمام رشتہ دار اکٹھے ہو جاتے ہیں اور موت کے مواقع پر بھی برا اور یوں کا اجتماع ہوتا ہے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ یہ جذ بہ خدا تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں رکھا ہے اور اور یہی وجہ ہے کہ ایک بچہ کو باہر کھیلتے ہوئے اگر شیشے کا چمکتا ہوا نکڑ نبھی مل جاتا ہے تو وہ خوشی میں دوڑ کر نورا ماں کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اماں مجھے یہ مکڑا ملا ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص بچے کو ذراسی بھی تکلیف پہنچاتا ہے تو اس صورت میں بھی رہ اپنی ماں کی طرف بھاگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میری ماں مجھے بچائے گی۔یہ مثال بیان کرنے کے بعد حضور نے فرمایا کہ جس طرح بچہ مصیبت اور خوشی کے وقت اپنی ماں کی طرف بھاگتا ہے۔اسی طرح ایک سپنا مومن بھی اپنی تکلیف اور خوشی کی گھڑیوں میں اپنے مالک حقیقی اور اپنے قادر مطلق خدا کی طرف بھاگتا اور اس کے آستانہ پر اپنا مرکھ دیتا ہے۔اسی لیے ہمارا آقا سید نا حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم ہر تکلیف اور مصیبت کے وقت انّا لِلَّهِ دَانَا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھیں میں کے یہ معنی ہیں کہ ہماری مصیبت کو دور کر نے والا خدا کے سوا کوئی نہیں اس لیے ہم اس کی طرف جاتے اور اپنی سے مدد کی درخواست کرتے ہیں۔اسی طرح حضور آتے یہ بھی فرمایا ہے کہ جب تمہیں کوئی خوشی اور راحت پہنچے تو الحمد للہ کہو جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے خدا یہ انعام تیری ہی وجہ سے ہمیں عطا ہوا ہے ،اور تو ہی ہماری شکر گند زری کا حقیقی حقدار ہے۔گر فرمایا کہ جس طرح فانز العقل بچے خوشی اور غمی میں اپنی ماں کی طرف نہیں دوڑ تے اسی طرح خاتم العقل انسان بھی دعا اور عبادت سے غافل رہتے ہیں لیکن وہ لوگ جو عقل و دانش کے مالک ہوتے ہیں اُن کے لبوں پر خوشی کے وقت بھی خدا کا ذکر ہونا ہے اور مصیبت کے وقت بھی اسی کی یاد ہوتی ہے۔