تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 198
190 فکر لاحق ہو گئی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کر گزشتہ سال کے گیارہ فروری کے واقعہ اور کراچی اور پنجاب کے موجود ہنگامے کے وقت دیکھا گیا کہ سول گورنمنٹ نے مجبور ہو کر امن عامہ کی حفاظت اور لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کی خاطر ملٹری کو بلایا۔اور اسے معاملہ سونپ دیا۔دولتانہ کے بیان سے ظاہر ہے کہ شروع شروع میں انہوں نے ہنگامہ برپا کرنے والوں کے ساتھ سمجھوتہ کی کوشش کی۔فقط اسی کوشش میں ہی وہ ناکام نہیں ہوئے بلکہ ملکی آئین اور نظم ونسق کو بر قرار رکھنے میں بھی سخت نا کام ہوئے۔بالآخر ملٹری کو بلا کر اس کے ہاتھ میں معاملہ سونپ دیا۔ہر بار ملکی آئین کی حفاظت کے لیے فوج کو بلانا اور مارشل لاء جاری کرنا کوئی قابل تعریف بات نہیں۔امن و امان اور علی کھیتی برباد کرنے والوں کو کھلی چھٹی دینے سے عام زندگی میں امن پیدا نہیں ہو سکتا۔اس لیے اب حکام اور سول کو اس معاملہ میں غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے۔اتنے دن تو صرف طلباء پر ہی قانون شکنی کا الزام تھا۔اب تو نام نہا د علما بھی اسی کی تقلید کر رہے ہیں۔ہم یہ بھی نہیں کہ سکتے کہ حکام نے بھی اپنی لیاقت کا ثبوت دیا۔اخباری جرنلسٹ کے ایک گروہ کی کارروائی قابل تعریف نہیں بلکہ انہوں نے تو ملکی کھیتی بر باد کر نے میں مدددی سیاسی چال بازوں کا نام لینا بھی ضروری ہے۔یہ سب مل کر ایک لعنتی چکمہ بن گیا۔اور اس میں پھنس کر عوام کی زندگی اور ملک کی بہبودی بر باد ہونے لگی تھی۔نازیبا حرکت اور قانون شکنی کو کسی طبقہ کی تائید حاصل نہیں لیکن جس فعل سے امن و امان اور ملکی نظم و نسق کی بربادی کا خطرہ ہوائی تم کی تحریک کو ابتداء ہی میں سختی سے دبا دینا حکومت کے لیے ضروری ہے نام نہاد علماء کے فتنہ سے ملک کا امن و امان اور مفاد خطرہ میں پڑ جائیں گے۔دولتانہ کو پہلے ہی اسے بھانپ لینا چاہیئے تھا۔لیکن اُلٹا انہوں نے اُن کے ساتھ مفاہمت اور سمجھوتہ کی کوشش کی۔یہ ان کی کمزوری اور نا عاقبت اندیشی کی علامت ہے۔ماضی سے بے نیازہ ہو کہ عہد جدید کی واقفیت کا گھمنڈ جیس کو لاحق ہے۔اس کے ساتھ جس طرح مفاہمت نہیں ہو سکتی اسی طرح عہد حاضر سے ناواقف قدامت پسندوں کے ساتھ بھی کسی طرح سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔کیا دولتانہ کو یہ بات نہیں سو تھی۔کہ جمہوریت کے نام پر کسی کے ساتھ نارواسلوک یا کسی پر کوئی تعلیم زبردستی ٹھونس دینا جیسا کہ جمہوری اصول کے خلاف ہے اسی طرح مذہبی لبادہ اوڑ حرکہ