تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 193
19۔ابھار رہے ہیں۔چنانچہ پنجاب میں لوٹ مار کرنے ڈاکٹھا نے جلانے قومی دولت تباہ کرنے اور بدامنی پھیلانے کے بڑے دردناک واقعات ہوئے ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے دشمن ختم نبوت کی تحریک کی اثر میں پاکستان کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔دشمنوں کے جال میں نہ آئے ان کی بیا زش ناکام بنایئے "۔۔خدا کے فضل و کرم سے صوبہ سندھ کے احمدی ۱۹۵۳ء کے المناک ابتداء میں بہت حد تک محفوظ رہے البتہ مندرجہ ذیل چند مقامات پر بعض احمدیوں کو دوقتی تکالیف کا سامتا کرنا پڑا۔ام میر پور خاص ضلع محقر بار کہ میں بعض شریہ ایم این بسنڈیکیٹ کی مائش گاہ کے گرد جمع ہوئے اور فتنہ کھڑا کرنا چاہا۔مگر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اور ایک معزز غیر احمدی فقیر محمد صاحب منگریوں کی مداخلت پر یہ معاملہ رفع دفع ہو گیا - میر پور خاص سے پانچ چھ میل پر ڈیرہ غازی خان کے ایک احمدی اللہ بخش صاحب اور ان کے والد پر حملہ کیا گیا اور ان کو لاٹھیاں ماری گئیں حملہ آوروں نے کہا کہ یہاں سے بھاگ جاؤ۔۳- فوکوٹ ضلع مقر پاس کہ میں ایک احمدی نوجوان کو بیٹا گیا۔ایک سندھی احمدی نصرت آباد میں کام کرتے تھے جنکی نسبت جھوٹی رپورٹ کی گئی کہ اس نے ڈاک پر چھا پہ مارا ہے حالانکہ وہ نوکوٹ میں موجود ہی نہ تھا۔۴۔سکھر میں بعض پنجابی علماء نے شورش پیدا کر نے کے لیے قدم رکھا مگر جلد ہی بھاگ گئے۔مکرم علی محمد نجم صاحب نمائندہ جماعت محمد آبا د اسٹیٹ ضلع متھر یاد کر سندھ نے مار مارچ ۱۹۵۳ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سے ملاقات کی اور پھر مرکزہ کو تحریر ی طور پر آگاہ کیا کہ ایک با اثر زمیندار یہ اشتعال انگیز باتیں کر رہا ہے کہ احمدیوں کو قتل کر کے اُن کی زمینوں پر قبضہ کر لو ان لوگوں کی لالچی نظریں جماعت احمد یہ گنری کی فیکٹری اور نہ مینوں پر ہیں۔تھور و ضلع تھر پارک میں ایک ہی احمدی تھے۔لوگوں نے ان پر سختی کی اور اعداد کے لیے مجبور کیا مگر انہوں نے سختی برداشت کی مگر ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔چک ما اضلع تھر پارکر میں فقہ کے ان ایام میں انى مهين من اراد اهانتك :