تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 192 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 192

١٨٩ یعنی پیر صاحب سے دریافت کیا گیا کہ اینٹی احمدیہ تحریک کے متعلق آپ کا رد عمل کیا ہے ؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ میری اپنی جماعت اور سندھی فرقہ کے وہ لوگ جو ان کی باتوں کو سننے کے حق میں ہیں ان سب کا ایک ایسی تحریک سے جو ایک پاکستانی کو دوسرے پاکستانیوں سے جدا کرتی ہے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بیان کرنے میں خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ میری ساری جماعت مسلم لیگ اس فساد انگیز تحریک بالکل الگ تھلک رہی ہے۔اسی طرح تمام سندھی بھی اس سے الگ رہے ہیں مگر انہوں نے افسوس وہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ پناہ گزین مولانا، جنہوں نے سندھ کو اپنا وطن بنا رکھا ہے دریائے سندھ کو آگ لگانا چاہتے ہیں مگر اُن کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے اصرار سے کہا کہ سندھ کو پاکستان کے لیے طاقت دینے کا ذریعہ بنایا جائے گا۔اور یہ ان لوگوں کے لیے طاقت بخش ثابت ہو گا جو قوم کی باگ ڈور کو سنبھالتے ہیں۔اگر گورنمنٹ کی مشینری شرارت پسند علماء کو قابو میں نہیں رکھ سکتی۔تو معاشرہ اُن کو قابو کرے گا۔میرا اپنا تو یہ حال ہے کہ میں اس معاملے میں ساری ذمہ داری اپنے سر لینے کو تیار ہوں بشرطیکہ گورنمنٹ پاکستان بھی مجھے یہ ذمہ داری سنبھالنے کی اجازت دے دے ہم اپنی حفاظت اور آزادی کے تحفظ کی خاطر چند ایک سر پھرے مذہبی دیوانوں کو اور مفسدانہ طبع لوگوں کو یہ اجازت نہیں ے سکتے کہ وہ سارے ملک کو آگ لگا دیں یانہ پیر بگاڑ و صاحب کا یہ بیان سندھ کے سب اخباروں میں شائع ہوا۔علاوہ ازیں جناب علی احمد صاحب بروہی ایڈیٹر منشور اور جنرل سیکرٹری انجمن مدیران جرائد سکھر نے ختم نبوت یا ختم پاکستان کے عنوان سے ایک پوسٹر شائع کیا جس میں لکھا کہ :- ختم نبوت ہر مسلمان کا ایمان ہے اور جو لوگ اس حقیقت کو نہیں مانتے ان کو سمجھانا اور دلیل دے کر قائل کرنا چاہیے۔لیکن بعض حضرات تبلیغ کرنے کی بجائے اشتعال انگیز تقریریں کر رہے ہیں اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھیل کر ان کو قانون توڑنے اور گرفتار ہونے پر نے اخبار The Sind Observer کراچی ۱۹ مارچ ۹۵۳ رص