تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 194
۱۹۱ کا نشان ظاہر ہوا۔ڈگری کے قریب ایک سکول کا عربی ٹیچر حضرت سیح موعود علیہ السلام کی شان اقدس میں انتہائی بے باکی سے گالیاں دیتا اور ایک احمدی طالب علم جمیل را بن حکیم نور محمد صاحب ٹنڈو غلام علی ضلع بدین) کو زد و کوب کرتا تھا۔احمدی طالب علم نے اپنے والد کی نصیحت پر عمل کر کے صبر کیا۔چند دن کے بعد وہ ٹیچر ایک شرمناک اخلاقی جرم میں پکڑا گیا اور جوتوں سے اس کی پٹائی کی گئی۔کنری ضلع مقر بار کہ سے پانچ چھ میل کے فاصلہ پر ایک احمد می جو اکیلے گاؤں میں رہتے تھے۔کزی آنے کے لیے گھر سے نکلے۔تو چند غیر احمدی ان کا رستہ روک کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے یا احمدیت کو ترک کر دو یا ہم تمہیں ختم کر دیں گے۔احمدی دوست نے انہیں جواب دیا کہ ہم مرنے سے نہیں ڈرتے اگر ہمیں اس لیے مارنا چاہتے ہو کہ ہم کلمہ بھی پڑھتے ہیں اور خانہ ، روزہ، حج زکورہ پر عامل ہیں تو بے شک ماہ لو۔اس بات کا ایسا فوری اثر ہوا کہ انہوں نے رستہ چھوڑ دیا۔دار العلوم ٹنڈو الہ یار ضلع حیدر آباد سندھ کے دیوبندی علماء نے ان دنوں احمدیوں کے خلاف نہ صرف اشتعال انگیز تقریریں کیں بلکہ جماعت احمدیہ کے پریذیڈنٹ چوہدری عنایت ارحمن صاحب ر زمیندار انجنیئرنگ اینڈ ٹریڈنگ کمپنی) کو قتل کرنے کے وعظ کئے۔ایک دوست امجد علی خان صاحب کو جو تین ماہ قبل احمدی ہوئے تھے۔قتل کی دھمکی دی گئی مگر انہوں نے دلیری سے سے جواب دیا کہ حق کے لیے جان چلی جائے تو پروا نہیں۔کو مٹھ مولی پخش رڈاکخانہ و یہ ماہ کھنڈ ضلع نواب شاہ) کے احمدیوں پر حملہ کی افواہ پھیلائی گئی مگر خدا کے فضل سے امن رہا۔۔کمال ڈیرہ ضلع نواب شاہ کے علاقہ میں یہ افواہ پھیلائی گئی کہ یہ وہ پر بھی حملہ ہوا ہے۔تحصیل کنڈیارہ میں دو مخالف پارٹیوں نے احمدیوں کے خلاف شرارت کا ارادہ کیا مگر تحصیلدار صاحب نے یہ منصوبہ ناکام بنا دیا۔