تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 181
149 ان دنوں پنجاب کے اکثر اضلاع کے احمدیوں کی حالت ایسی ہی تھی جیسے لومڑ کا شکار کرنے کے لیے شکاری کتے اس کے پیچھے پیچھے دوڑے پھرتے ہیں۔اور لومڑ اپنی جان بچانے کے لیے کبھی اِدھر بھاگتا ہے اور کبھی اُدھر بھاگتا ہے ان ایام میں لاریاں کھڑی کر کہ کے احمدیوں کو نکالا جاتا اور انہیں پیٹا جاتا۔اسی طرح زنجیریں کھینچے کر گاڑیوں کو روک لیا جاتا اور پھر تلاشی لی جاتی کہ گاڑی میں کوئی احمدی تو نہیں اور اگر کوئی نظر آتا تو اسے مارا پیٹا جاتا۔اسی طرح ہزاروں ہزار کے جتھے ہیں کہ دیہات میں نکل جاتے اور گاؤں کے دس دس پندرہ پندرہ احمدیوں پر حملہ کر دیتے یا اگر ایک گھری کسی احمدی کا ہوتا تو اسی گھر پر حملہ کر دیتے ، مال و اسباب لوٹ لیتے۔احمدیوں کو مارتے پیٹتے اور بعض شہروں میں احمدیوں کے گھروں کو آگ بھی لگائی گئی بیسیوں جگہوں پر احمدیوں کے لیے پانی روک دیا گیا اور وہ تین تین چار چار دن تک ایسی حالت میں رہے کہ انہیں پانی کا ایک قطرہ تک بھی نہیں مل سکا۔اسی طرح بعض جگہ ہفتہ ہفتہ دو دو ہفتے وہ بازار سے سودا بھی نہیں خرید سکے۔بیرونی جماعتیں ان حالات سے ناواقف تھیں۔وہ گورنمنٹ کے اعلانوں کو ٹنکہ کہ ہر طرح امن ہے اور خیریت ہے خوش ہو جاتی تھیں۔حالانکہ جس وقت خیریت کے اعلان ہوتے تھے وہی سب سے زیادہ احمدیوں کے لیے خطرے کا وقت ہوتا تھا لیکن جیسا کہ ہیں نے بتایا ہے حکومت کے اکثر افسروں کی نیت نیک تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر ملک میں یہ خبریں پھیلیں کہ لوگ احمدیوں پر سختی کر رہے ہیں تو دوسرے جگہوں کے لوگ بھی ان پر سختی کرنے لگ جائیں گے اس لیے امن کے قیام کے لیے مزوری ہے کہ متواتر یہ اعلان کیے جائیں کہ سب جگہ امن ہے تاکہ شور دب جائے اور لوگ سمجھ جائیں کہ جب سب جگہ امن ہے تو یہیں فساد کرنے کی کیا ضرورت ہے ؛الپس ہم ان میں سے اکثر کی نیت پر شبہ نہیں کرتے۔ہمیں سیاسیات کا علم ہے اور ہم نے تاریخ کا بھی مطالعہ کیا ہوا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ تمام حکومتیں ایسا ہی کہتی ہیں کیونکہ علم النفس کے ماتحت لوگوں کے جوش اسی وقت ٹھنڈے ہوتے ہیں جب