تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 180 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 180

12A پیچھے ہی رہے۔دراصل پولیس خود خائف تھی۔ملڑی کے کارندے پہنچ چکے تھے۔گاڑی کے آنے کی خبر پاتے ہی کہ ملڑی کا دستہ اس کے ساتھ آئے گا لوگ منتشر ہو گئے ہم امن کے ساتھ لاہور پہنچے۔اور بڑے اطمینان کے ساتھ لاہور میں پھرنے اور رہنے لگے۔مارشل لاء اپنا قبضہ جما چکا تھا۔اگر مارشل لاء نافذ نہ ہوتا تو یقیناً احمدیوں کے گھرانے بڑی طرح ذبح کیے جاتے۔اُن کے مکانات ندید آتش ہوتے۔میں نے لاہور پہنچے کہ اپنی سرگزشت تحریر کر کے سپر نٹنڈنٹ صاحب کی خدمت میں بھیجی۔دوسری درخواست واپس آکر یہاں سے بھیجی۔مہربانی فرما کہ میری دونوں درخواستیں دفتر پولیس سے بر آمد کہا کہ ملاحظہ فرمائیں۔پولیس نے کیا کارروائی کتنے عرصہ کے بعد کی پولیس با کل بے کار ہو چکی تھی۔عوام الناس سے ڈرتی تھی۔L صوبہ پنجاب کی چند احمدی جماعتوں کے درد ناک فسادات پنجاب اور حکومت کی پالیسی اور زہرہ گداز واقعات بیان ہو چکے ہیں اب آخر میں یہ بتانا مقصود ہے کہ اس دور میں پنجاب کی دولتانہ حکومت کی پالیسی یہ تھی که با وجود گرفتند فساد جنگل کی آگ کی طرح پورے صوبہ کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھے وہ اپنی سیاسی مصلحت کی بناء پر حالات کو چھپاتی تھی اور قیام امن کے لیے یہ پراپیگنڈا کر رہی تھی کہ صوبہ میں امن وامان ہے اور سٹورش کو کچل دیا گیا ہے چنانچہ سیدنا حضرت مصلح موعود نے ۲ ماه و قا ۱۳۳۳ بش بمطابق ۳ جولائی 1923ء کو ناصر آبا د سندھ میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ان دنوں گورنمنٹ کی پالیسی یہ تھی کہ حالات کو چھپایا جائے اور دبایا جائے اور لوگوں پر یہ ظاہر کیا جائے کہ ہر طرح امن ہے اور اس میں وہ معذور بھی کیونکہ پولیٹکل اصول کے مطابق تسلیم کیا گیاہے کہ اگر فتنہ و فساد کی خبریں پھیلیں تو لوگوں میں اور بھی جوش پھیل جاتا ہے پس گورنمنٹ کے اکثر حکام کی یہ کا رروائی کسی بد نیتی پر مبنی نہیں تھی بلکہ مصلحت اس بات کا تقاضا کہتی تھی لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ باہر کی جماعتیں مرکز اور پنجاب کے حالات سے ناواقف رہیں یہاں تک کہ جب حکومت نے دیکھا کہ خطوں کے ذریعہ ناظر دعوہ و تبلیغ باہر کی جماعتوں کو اپنے حالات سے اطلاع دیتے ہیں تو انہوں نے ان خطوط کو بھی کسی قانونی عذر کے ماتحت روک دیا۔۔۔۔۔