تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 182
+ انہیں معلوم ہو کہ سب جگہ امن ہے اگر انہیں پتہ لگے کہ بعض مقامات پر امن نہیں تو وہ خود بھی اس سے نہیں بیٹھے کیونکہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے کوئی شورش نہ کی تو لوگ ہمیں طعنہ دیں گے کہ تم نے تو کچھ بھی نہیں کیا اسی وجہ سے حکومتوں کا عام دستور یہی ہے کہ ابتداء میں جو خبریں نکل جائیں سو نکل جائیں۔بعد میں وہ یہ پروپیگنڈا شروع کر دیتی ہیں کہ سب جگہ امن قائم ہو گیا ہے تاکہ ایک جگہ کے لوگ دوسری جگہوں کی خبریں سن کر بیٹھ جائیں اور فتنہ و فساد کو ترک کر دیں بہر حال ان حالات میں سے دو اڑھائی ماہ کے قریب ہماری جماعت گزری۔بسا اوقات ہمیں بیرونی جماعتوں کی طرف سے چٹھیاں پہنچتی تھیں کہ الحمد للہ پنجاب میں امن قائم ہو گیا ہے اور جماعت کے خلاف شورش دب گئی ہے۔مگر اسی وقت ہمیں پنجاب کی مختلف اطراف سے یہ اطلاعات پیش رہی ہوتی تھیں کہ فلاں کا گھر لوٹ لیا گیا ہے۔فلاں جگہ عورتوں اور بچوں پر پہلے کیسے جارہے ہیں اور انہیں بیچا بچا کر محفوظ مقامات پر پہنچایا جارہا ہے۔فلاں کا گھر جلا دیا گیا ہے مگرہ باہر کی جماعتوں کی طرف سے مبارکباد اور خوشی کے خطوط پہنچ رہے ہوتے تھے۔کہ الحمد للہ گورنمنٹ کے اعلانات سے معلوم ہوتا ہے کہ اب ہر طرح خیریت ہے۔لیں آپ لوگ اس مصیبت کا اندازہ نہیں لگا سکتے جس میں سے پنجاب کے لوگوں کو گزرنا پڑا۔کیونکہ سندھ سرحد اور بنگال میں ان فسادات کا ہزارواں حصہ بھی ظاہر نہیں ہوا جو پنجاب میں ظاہر ہوئے۔اس وجہ سے یہاں کے لوگ امن میں رہے اور خیریت سے رہے لیکن باوجود اس کے کہ ان فسادات نے پنجاب میں انتہائی نازک صورت اختیار کر لی تھی۔وہ وہ تغییرات جو گورنمنٹ میں پیدا ہوئے ان کی وجہ سے بھی اور کچھ اس وجہ سے بھی کہ حکام کا ایک حصہ ایسا تھا جو دیانت دار تھا اور اپنے فرائض کو ادا کرنا چاہتا تھا۔یہ فتنہ آخر دب گیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس فتنہ کی روح ابھی باقی ہے اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اگر آئندہ فتنہ اُٹھے تو وہ شاید پنجاب کی بجائے سندھ میں پیدا ہو یا بنگال میں پید امور اسکن ہے پنجاب میں ہی پیدا ہو کیونکہ ہمیں نظریہ آتا