تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 152 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 152

۱۵۰ لگاتا ہوا احاطہ کے دروازہ پر پہنچے گیا اور احاطہ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔لیکن ہم نے کہا کہ احاطہ سے باہر یہ ہیں۔اندر نہ آئیں لیکن چونکہ پہلے ہر دو روزہ کے واقعہ کی اطلاع نمبر دار دیہہ کو ساتھ ساتھ دیتے رہے اور اس روزہ صبح نمبر دار نے بھی کہہ دیا کہ تم خود اپنا انتظام کر لو میں آج تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکوں گا۔گاؤں کے لوگ میرے بہت خلاف بھی رہے ہیں اور اس روز صبح سویرے سے ہی مختلف قسم کی دھمکی آمیز پیغامات آرہے تھے۔لہذا شام کے وقت عورتوں اور بچوں کو قریبی چک نمبر ما 12 میں پہنچا دیا اور سامان مال موسیقی اور تمام دیگر افراد گھر میں ہی موجود ہے۔مجمع نے حسب معمول احاطہ کے گرد جمع ہو کر نعرے لگانے اور گالیاں دینی شروع کیں دو تین جگہ آگ لگانے کی کوشش کی۔ہم خاموش احاطہ کے اندر بیٹھے رہے۔البتہ ان کی منت سماجت کی کہ مکان کو آگ نہ لگائیں اور ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دیں لیکن یہ مجمع بڑھتا گیا اور کوئی کہتا آگ لگاؤ۔کوئی کہتا مار دو۔کوئی کہتا تو یہ کرو۔یہ مختلف نعرے لگاتے رہے۔آخر دس بجے کے قریب مٹی کا تیل ڈال کر ایک کو مٹھے کو آگ لگا دی۔جب آگ کافی بھڑک ابھی تو تمام لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے صبح تھانہ اوکاڑہ میں اطلاع دی گئی تو اے ایس آئی صاحب پولیس موقعہ پر تشریف لائے۔مکان جل کر راکھ ہو چکا تھا " م چو ہدری نصیر احمد صاحب نے بیان کیا : چک نمبر ما / ضلع منٹگمری میں احمدیہ جماعت ہے۔لیکن اس چک میں بھی نہ یادہ آبادی غیر احمدیوں کی ہے۔گردو نواح میں سب غیر احمدیوں کے چک ہیں۔تحریک احرار کے زمانہ میں اس علاقہ میں بھی احمدیوں کی مخالفت کی گئی ہے۔جلوس نکالے گئے۔تعداد اور طاقت کے لحاظ سے ہم غیر احمدیوں کے مقابلہ میں بہت کمزور تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور حضور کی دعاؤں کی بدولت اللہ تعالیٰ نے خود ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ یہ فتنہ کوئی نقصان نہ پہنچا سکا۔خود غیر احمدیوں نے یہ مشہور کر دیا کہ چو ہد دی نصیر احمد کے پاس اتنا اسلحہ ہے کہ ہم مقابلہ نہیں کر سکتے۔بلکہ کئی لوگوں نے باہر کے لوگوں میں حلفاً یہ کہا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے حالانکہ یہ سب غلط تھا۔اس جھوٹی محبری کی بناء پہ پولیس نے میری تلاشی بھی لی۔لیکن کوئی جائز چیز بر آمد نہ ہوسکی یہ