تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 153
101 فصل دوم لاہور شہر اور اس کے مضافات اس پر آشوب زمانہ میں تشدد ، قتل و غارت اور آتش زنی کی سب سے ہولناک وارداتیں لاہور میں ہو نہیں۔جماعت احمدیہ لاہور پہ ۱۶ مارچ ۱۹۵۳ء کو کیا بیتی ؟ اس کا نقشہ تحقیقاتی عدالت کے فاضل ججان نے حسب ذیل الفاظ میں کھینچا ہے۔اس دن کے واقعات کو دیکھ کر سینٹ بارتھ لو کیوڑے یاد آتا تھا حتی کہ ڈیڑھ بجے بعد دو پر مارشل لاء کا اعلان کر دیا گیا۔ایک دن قبل ایک احمدی مدرس قتل کر دیا گیا تھا۔14 مارچ کو ایک احمدی محمد شفیع بر ما والا مغل پورہ میں بلاک کر دیا گیا۔اور کالج کے ایک احمدی طالب علم کو بھائی دروازہ کے اندر لوگوں نے چھرے مار مار کر قتل کر دیا ایک اور احمدی یار مضر و نه احمدنی) مرزا کریم بیگ کو فلیمنگ روڈ پر چھرا مار دیا گیا اور اس کی نعش : ایک چیتا میں پھینک دی گئی جو فرنیچر کو آگ لگا کر تیار کی گئی تھی۔احمدیوں کی جو جائیدادیں اور دوکانیں اس دن لوٹی یا جلائی گئیں رویہ تھیں یہ پاک دیز - شفاء میڈیکل۔اور سوکو - موسیٰ اینڈ سنز کی دکان ، راجپوت سائیکل در کسی ملک محمد طفیل اور ملک برکت علی کے چوب عمارتی احاطے اور گودام۔مین روڈ پر ملک عبد الرحمن کا مکان مزرنگ روڈ اور ٹمپل روڈ پر پانچ احمدیوں کے مکان جس میں شیخ نور احمد ایڈووکیٹ کا مکان بھی شامل تھا۔تیسرے پہر ایک ممتاز ایڈووکیٹ مسٹر بشیر احمد امیر جماعت احمد یہ لاہور کا مکان گھیر لیا گیا ، نجوم اس مکان میں جمال احمد صاحب ( این مستری نذر محمد صاحب) شہید کی عمر ۱۷ سال ۵ دن تھی آپ کو پہلے لاہور میں 1905 امانتاً وفن کیا گیا پھر سیدنا حضرت مصلح موعود کی اجازت سے ہر نومبر کا کو بہشتی مقبرہ ربوہ میں سپرد خاک کیسے گئے لاہور تاریخ احمدیت ماه موانه مولانا شیخ عبد القادر صاحب الشناعت فروری کے آپ نہایت مخلص اور دیتی