تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 151
۱۴۹ ہمیں قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ہم نے ان تمام باتوں کی رپورٹ تھانہ اوکاڑہ میں دیدی تھی۔۔۔بعد میں شہر کے کھالے سے بھی پانی لینا بند کر دیا تھا۔آخر ہم جوہر سے پانی لے کر پیتے رہے یہ ۲ - محمد خاں صاحب ولد عالم خاں صاحب نے ایک بیان میں لکھا : شورش کے ایام میں ہمارے گاؤں کے چک نمبر ۲۱ تحصیل اوکاڑہ مضلع منٹگمری میں ہم احمدیوں کو جین کا گاؤں میں صرف ایک ہی گھر تھا سخنت تنگ کیا گیا۔ہمارے رہائشی مکان واقعہ چیک مذکور کو لوگوں نے جتنے کی صورت میں آکر نذر آتش کر دیا۔علاوہ مکان کے اس میں خانگی سامان بھی تھا جو اس کے ساتھ ہی جل گیا یہ واقعہ تقریبا رات کے دس بجے ہوا۔مقامی چک کے باشندے جمع ہو کر ایک جلوس میں ہمارے مکان کے سامنے آئے۔نہایت گندی گالیاں اور اشتعال انگیر نعرے لگاتے رہے ہمارے مکان کے دروازہ کو پتھر بھی مارے گئے۔آخر جلوس ہمارے مکان کے آگے بڑھ گیا جس میں سے پانچ اشخاص۔۔۔۔۔الگ ہو گئے۔واپس آکر انہوں نے ہمارے مکان کو آگ لگا دی۔ہمارا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جو تقریباً یہ اماہ تک جاری رہا۔ہم نے اس واقعہ کی رپورٹ تھانہ اوکاڑہ میں دی تھی۔محتمابندار فضل احمد تفتیش کے لیے گیا لیکن موقعہ پر جا کہ کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ الٹا ان لوگوں کے حوصلہ کو بڑھا دیا۔دوسرے روز ہم نے مجسٹریٹ صاحب کے سامنے واقعہ کی رپورٹ کی جس پر دوبارہ فضل احمد تھانیدار چک مذکور میں آیا اور مذکورہ بالا پانچ اشخاص میں سے تین کو اپنے ہمراہ تھانہ میں لے آیا۔یہاں آکر ان کی ضمانت لے کر چھوڑ دیا۔۔میاں نور محمد صاحب کی شہادت ہے کہ : لا میں چک رہا میں اکیلا احمدی ہوں۔اور عرصہ پانچ سال سے اس چک میں رہتا ہوں۔موجودہ شورش میں پہلے تو چک کے لوگ خاموش رہے لیکن چھ مارچ کے بعد رات کو جلوس کی شکل میں جمع ہو کر نعرے لگانے شروع کیے گئے۔، ہ مارچ ہر دو راتوں کو بہت بڑا مجمع لغرے لگاتا ہوا میرے احاطہ کے گرد جمع ہو گیا۔اور زور زور سے نعرے لگانے شروع کیسے گالیاں دیتے رہے اور کہتے رہے کہ باہر نکلو یا مسلمان ہو جاؤ لیکن کوئی آدمی احاطہ کے اندر داخل نہیں ہوا۔ہر رات تقریباً دو گھنڈ تک متواتر نعرے لگاتے شور کرتے لگالیاں دیتے اور ڈرانے دھمکانے کے بعد واپس چلے جاتے رہے۔لیکن 9 مارچ شام ہوتے ہی ایک بڑا مجمع نعرے