تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 137
۱۳۵ اصلی صاحب کو اور اس کی نقل حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے حضور بھجواتے تھے۔چوہدری صاحب موصوف نے رپورٹ دی کہ :۔ار آج ملک احمد خاں صاحب کو چھٹیاں دے کر رجوعہ بھیجا گیا۔۔۔۔۔سید غلام محمد شاہ سابق ایم ایل اے ابن سید سردار حسین شاہ و مہر شاہ سے ملاقات ہوئی۔میری چٹھی پڑھ کہ ان ہر دو نے اس امر سے انکار کیا کہ انہوں نے لوگوں کو دودھ وغیرہ لے جانے سے روکا ہے اور نہ ہی انہوں نے کسی قسم کے بائیکاٹ کی ترغیب دلائی ہے۔سیدہ غلام محمد شاہ صاحب نے یہ بھی کہا کہ شاید ان کے والد صاحب نے مزارعان وغیرہ کو اس ضمن میں کچھ کہا تھا نیز اس نے کہا کہ "آپ بھی ہم سے ناراض ہیں اور چنیوٹ والوں نے بھی کل ہمارا جنازہ نکالنا ہے۔اس وجہ سے کہ ہم گرفتار نہیں ہوئے " ر بھٹڑ جات سے چار پھیرے جو چنیوٹ کے ہیں وہاں بھجوائے گئے۔انہوں نے وہاں اپنے رشتہ داروں سے کہا کہ اگر اور مارچ ۱۹۵۳ء کو کوئی خطرہ ہے تو کیا ہم وہاں سے چلے آمین اُن کے رشتہ داروں نے جواب دیا کہ یہ بوہ پر کون حملہ کر سکتا ہے اور کس کی طاقت ہے پتھروں نے کہا کہ پھر بھی اپنے ذمہ دار آدمیوں سے پوچھ لو تم بھی بیچ میں یونہی نہ مارے جائیں۔چنانچہ انہوں نے مشرارتی عناصر سے پوچھا جنہوں نے جواب دیا کہ ربوہ پر حملہ کیسے ہو سکتا ہے چنیوٹ والے تو سب بزدل ہیں اور ربوہ کی طرف کوئی منہ نہیں کرتا یا "۔جنس قدر اطلاعات حاصل ہوئی ہیں اُن سے میرا تاثر یہ ہے کہ اور مارچ سر والی بات یعنی حملہ کی صورت بہت مشکل ہے ویسے دیہات میں زہر پھیلانے کی کوشش جاری ہے۔موضع چھنی کے علاوہ کچھی کی طرف سے بھی کسی قدر دودھ آنا شروع ہو گیا ہے کیا چنیوٹ سے آمدہ ر صبح سات بجے) کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ من شنا ہے کہ رجوعہ سے آنے والے لوگوں نے شہر کے کارکنوں سے مل کر یہ پروگرام بنایا ہے کہ احمد ایوں کو مجبور کر کے کیمپ کی صورت میں تبدیل کر دیا جائے اور شہر سے نکلوا دیا جائے" باہر سے بلائے گئے رضا کاروں اور عوام کے ذریعہ سے فساد ، لوٹ مارہ وغیرہ کرانے کا پروگرام بن رہا ہے اور علانیہ کہا جاتا ہے کہ پولیس کا جبکہ پیر ہ شہر پر نہیں ہے۔رائیفلوں