تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 138
والے اب جاچکے ہیں اب کسی کا ڈر ہے اور کب تک انتظار کرو گے یا احمدیوں کو کیمپ میں رکھنے کی تجویز انتہائی مشر انگیز تھی جس کا فوری نوٹس حضرت مصلح موعود نے لیا اور ارشاد فرمایا " فوراً اس کے متعلق ڈی سی کو لکھا جائے اور تار دی جائے یا چنانچہ دفتر امور عامہ کی طرف سے اس کی تعمیل کی گئی۔میاں فرزند علی صاحب ملازم تعلیم الاسلام ہائی سکول نے تحریرہ ہی بیان دیا کہ وہ صیح بجے چنیوٹ کی منڈی میں گئے تھے۔تین چار آدمیوں نے انہیں زدو کوب کیا اور پکڑ کر منڈی سے باہر نکال دیا۔اسی روز با ۸ بجے شام ربوہ میں ایک سہ رکنی اصلاحی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔جس کے سیکرٹری مولوی غلام باری صاحب سیف پر وفیسر جامعہ احمدیہ مقرر ہوئے۔کمیٹی کے پہلے اجلاس میں ربوہ کے داخلی انتظام کے سلسلہ میں متعد د اصلاحی فیصلے کیے گئے اور قرار پایا کہ اجلاس کے لیے آئندہ کورم دو ممبران کا ہوگا (۲) بعد نماز عصر کمیٹی کا بشرط ضرورت اجلاس ہو گا ۳ مرسری بیان سے کر فیصلہ کر دیا جائے گا۔(۴) اجلاس بریت مبارک میں ہوا کرے گا۔ار مارچ۔پچھلے چند دنوں سے ربوہ پر حملہ ہونے کی افواہیں زور شور سے پھیل چکی تھیں اس لیے اس روز مولانا ابو العطاء صا حب نے احمد نگر سے خاص طور پر لالیاں، کوٹ قاضی، مل سپرا یکو کے اور کوٹ امیر شاہ وغیرہ دیات میں بعضی احمدی و غیر احمدی معززہ دوستوں کو خبر رسانی کے لیے بھیجا۔احمد نگر کے مقامی غیر احمدیوں سے معلوم ہوا کہ ابھی تک انہیں کوئی پختہ اطلاع نہیں البتہ عورتوں کے ذریعے یہ افواہ پہنچی کہ گیارہ مارچ کو ربوہ پر جما ہوگا۔اس منتقوقع خطرہ کے پیش نظر سید نا حضرت مصلح موعود نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب، اور حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو مشورہ کے لیے طلب فرمایا چنانچہ حضور نے قائمقام ناظر امور عامہ کے ایک مراسلہ پر اپنے قلم مبارک سے لکھا میاں بشیر احمد صاحب ، مولوی ابوالعطاء ، شاہ صاحب مجھ سے جلد ملیں تا ڈیفنس کے بارے میں غور کر لیا جائے گا اطلاع ملی کہ ایک باور دی شخص جو اپنے آپ کو گورنمنٹ کا آدمی ظاہر کرتا ہے اور گھوڑ سوار ہے۔ربوہ سے پرہ میل کے فاصلہ پر موضع ڈاور کی طرف پھر رہا ہے اور لوگوں کو ربوہ کیران