تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 104
L فصل دوم ضلع لائلپور (فیصل آباد) تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں لکھا ہے :۔سے جنوری ۱۹۵۳ء تک اس ضلع میں بھی احتراری احمدی نزاع کی کیفیت دوسرے اضلاع ہی کی مانند تھی۔یکم دسمبر کو یوم میلاد النبی کے موقعہ پر احراریوں نے ایسے جھنڈے بلند کیے جن پر یہ دو مطالبات لکھے تھے کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دیا جائے اور چوہدری ظفر اللہ خان کا مینہ سے بر طرف کیے جائیں۔اس کے بعد یہ معمول ہو گیا کہ قبل تھانہ اور بعد نمازہ کی تقریروں میں یہی مطالبات دہرائے جانے لگے۔تقریریں نہ صرف احمدیوں کے بلکہ حکومت کے بھی خلاف تھیں۔۔۔اس دوران میں رضا کار برابر بھرتی کیے جاتے رہے جو قرآن پر حلف اٹھاتے تھے اور اپنے خون ڈائریکٹ ایکشن کے عہد نامے پر دستخط کرتے تھے۔۔۔۔۔اس تحریک کو بہت سے مسلم لیگیوں کی بھی حمایت حاصل تھی۔حقیقت میں لیگ کے بہت سے کو نسلر جماعت احرار سے تعلق رکھتے تھے اور اس تحریک کی حمایت میں عوام پر اثر ڈال رہے تھے۔یہ خبر موصول ہوئی کہ لا ہور میں مارشل لاء اعلان کر دیا گیا ہے۔شام کو چیف منسٹر کا یہ اعلان پہنچا کہ حکومت پنجاب نے شورش پسندوں کے مطالبات کو تسلیم کر لیا ہے۔ان کو حکومت پنجاب کی رائے کے ساتھ مرکز میں بھیج دیا ہے۔اور صوبے کا ایک وزیر ان مطالبات کو کابینہ کے سامنے بوجہ احسن پیش کرنے کی غرض سے کراچی جا رہا ہے۔شورش پسندوں نے اس اعلان سے یہ سمجھ لیا کہ حکومت نے سہتھیار ڈال دیئے ہیں۔چنانچہ انہوں نے اپنی مہم تیز کر دی اور اس کے بعد مسلم لیگی ایم۔ایل۔اسے اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کرنے لگے۔۔۔۔۔۔اسی دوران میں کسی احمدی کے جان و مال کو نقصان نہیں پہنچا۔نہ شہر ہیں نہ صنعتی رقبے میں کسی جائیداد کی توڑ پھوڑ کی گئی۔پرائیویٹ طور پر گولی چلانے کے صرف دو واقعات ہوئے۔دونوں میں احمدیوں نے غلط فہمی کے ماتحت گولی چلا دی تھی۔اور دونوں موقعوں