تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 105
پر بعض بچے زخمی ہوئے یا لے رو عدالتی بیان صدر انجین احمدیہ میں ہے کہ : - مارچ ۱۹۵۳ء میں اس خوف سے کہ راست اقدام کے نتیجہ میں سخت شورش برپا کی جائے گی مقامی احمدیوں کا ایک وفد راجہ جہاں داد خانصاحب سپر نٹنڈنٹ پولیس کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس غرض سے صحیح حالات ان سے بیان کیسے کہ احمدیوں کو پناہ دی جائے اور ان کی حفاظت کی جائے سپر نٹنڈنٹ پولیس نے وفد کی شکایات کی طرف مطلقاً توجہ نہ دی۔وفد مایوس لوٹا۔۲۲ فروری کو راست اقدام کا نفاذ کیا جانا تھا۔اس تاریخ کے بعد احمدیوں کی دکانوں اور مکانوں کی فہرستیں پولیس نے طلب کیں، جو مہیا کی گئیں۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان فہرستوں کا استعمال شورش پسندوں نے احمدیوں کی دوکانوں اور مکانوں کا سراغ لگانے کے لیے کیا۔جامع بیت الذكر لائلپور شورش پسندوں کا مرکز تھی جہاں احمدیوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے خفیہ منصوبے تیار کیسے جاتے تھے۔شہر میں جلوس چکر لگاتے پھرتے تھے اور مرزائی کرتا ہائے ہائے ' کے نعرے لگاتے پھرتے تھے مسٹر ابن حسن صاحب ڈپٹی کمشنر کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی کہ شورش پسند کرفیو اور دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور مسجد میں اپنے پروگرام ترتیب دیتے ہوئے مجلسہ کے انتظام کر رہے ہیں۔اس پر انہیں ان شورش پسندوں کو جو مسجد میں جمع تھے منتشر کرنے کے لیے قانونی اقدامات کرنے پڑے۔ایک احمدی ایڈووکیٹ مسٹر محمود احمد کے سامنے راجہ جہاں واد سپر نٹنڈنٹ پولیس نے یہ تجویز پیش کی کہ احمدیوں کے لیے شہر سے با مہر ایک رفیوجی کیمپ کھول دیا جائے اور یقین دلایا کہ۔۔۔احمدی وہاں محفوظ رہیں گے۔لیکن یہ تجویز احمدیوں نے منظور نہ کی اور اپنے مکانوں کو نہ چھوڑا۔شہر میں مکمل لاقانونیت تھی جبکہ شورش پسند ہزاروں کی تعداد میں جلوس کی شکل میں گھومتے پھرتے تھے۔سرکاری عمارتوں پر خشت باری کرتے تھے۔اور احمدیوں کی دکانیں اور مکان لوٹتے تھے۔ایک بہت بڑا اور تند ہجوم سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ہار پہنا کر جیل کی طرف لے گیا اور ڈپٹی کمتر ے رپورٹ تحقیقاتی عدالت م۱۶۸ تا ص۱۸۹