تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 79 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 79

متواتر اپنے حالات رکھیں اور قطعا اس بات کا خیال نہ کریں کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا جتنی دیر سے نتیجہ نکلے گا اتنا ہی وہ انہیں مجرم بنانے اور خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کانے کا موجب ہوگا۔دنیا کی حکومت حقیقتی گرفت کر سکتی ہے خدا تعالیٰ کی حکومت یقیناً اس سے زیادہ گرفت کر سکتی ہے لیکن کیسی شخص پر محبت تمام کر دینا سب سے بڑا کام ہے خودسر، جوشیلے اور ہو توں لوگ اسے فضول سمجھتے ہیں لیکن عقل مند لوگ جانتے ہیں کہ سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ کسی شخص پر محبت پوری ہو جائے اور اس کے ساتھیوں اور دوسرے لوگوں پر محبت پوری ہو جائے اس کے بعد وہ خواہ عمل نہ کرے اس کے لئے یہی سزا کافی ہے۔پھر خدا تعالیٰ جو سزا دے گا وہ الگ ہے۔لیکن ان لوگوں سے متفق نہیں ہوں جو کہتے ہیں کہ حکومت نے پہلے کیا کیا ہے کہ ہم پھر اس کے پاس جائیں۔یہاں اس بات کا سوال نہیں کہ وہ کوئی علاج بھی کرتے ہیں یا نہیں۔یہ لوگ ہم پر مقرر کر دئے گئے ہیں اور انہیں خدا تعالیٰ نے ہم پر چھا کم مقرر کیا ہے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی انہیں اسی نام سے مخاطب کریں اور کہیں کہ تم ہمارے حاکم ہوا اور امن قائم رکھنا تمہارا فرض ہے۔اور اگر وہ اپنی ذمہ داری ادا نہ کریں تو ہم دوبارہ انکے پاس جائیں گے اور انہیں اس طرف تو بقیہ دلائیں گے " جو لوگ مادی چیزوں کو لیتے ہیں وہ کسی افسر کے موقومت ہو جائے اور اس کے ڈیمس ہو جائے کا نام سزا رکھتے ہیں بے شک وہ مزا ہے لیکن وہ سرا گھٹیا درجہ کی ہے کسی شخص کا مجرم ثابت ہو جانا، اس کا غیر ذمہ دار قرار پانا اور فرض ناشناس قرار پاتا اس کے ڈومس ہو جائے اور حقل ہو جانے سے زیادہ خطرناک ہے۔کتنے آدمی ہیں جو معطل ہوئے لیکن بعد میں آنے والوں نے انہیں بکری قرار دیا۔پرانے زمانے میں کئی کمانڈر اپنی کمانوں سے الگ ہوئے۔کئی بادشاہ اپنی بادشاہتوں سے الگ ہوئے لیکن بعد کی تاریخ نے انہیں بری قرار دے دیا۔وہ کتنے سال تھے جو انہوں نے تکلیف میں گزار ہے یہی دس بارہ سال وہ تکلیف میں رہے اور انہوں نے ذلت کو برداشت کیا لیکن بعد کی تاریخ نے انہیں اتنا اچھا لا کہ وہی معطل شدہ کمانڈر اور بادشاہ عربات والے قرار پائے۔اس کے مقابلہ میں کتنے بڑے سرکش با دشاہ اور کمانڈر گزرے ہیں جنہیں اپنے وقت میں طاقت، قوت اور دبدبہ حاصل تھا، انہوں نے ماتحتوں پر ظلم بھی گئے لیکن سینکڑوں اور ہزاروں سال گزر گئے کوئی شخص انہیں اچھا نہیں سمجھتا۔ہر تاریخ پڑھنے والا انہیں ملامت کرتا