تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 80 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 80

LL ہے اور انہیں حقیر اور ذلیل سمجھتا ہے۔ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن کی اولاد بھی اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرنا پسند نہیں کرتی۔اگر تم پر کوئی شخص ظلم اور تعدی کرتا ہے اور تم مجھے ہو کہ افسر فرض شناس ہے اور وہ تمہاری درد بھی کرے گا تو پھر بھی وہ اس وقت تک ظلم کو نہیں مٹا سکتا جب تک کہ وہ وقت نہ آجائے جو خدا تعالیٰ نے اسے مٹانے کے لئے مقرر کیا ہے۔ایک صداقت کی دشمنی محض یہ نہیں ہوتی کہ اس کے قبول کرنے والے کو مارا جائے بلکہ شمنی یہ ہوتی ہے کہ اسے جھوٹا کہا جائے۔اب کیا حکومتیں کیسی کو چھوٹا کہنے سے روک سکتی ہیں ؟ اگر وہ جیسے روک دیں گی تو لوگ گھروں میں بیٹھے باتوں باتوں میں جھوٹا کہیں گے اور اگر حکومت اور زیادہ دبائے گی تو وہ دلوں میں جھوٹا کہیں گے اب دلوں میں برا منانے سے کون سی طاقت روک سکتی ہے ؟ اگر ایک شخص صداقت سے محروم ہے، ده نا واقف ہے اس لئے وہ صداقت سے شمنی کرتا ہے اور وہ شیطان کے ہاتھ میں پڑ گیا ہے۔تو جب تک اس کا دل صاف نہ ہو اس کی دشمنی کو دور نہیں کیا جاسکتا اور جس دن اس کا دل صاف ہو جائے گا تو کیا ایسی طاقت ہے یا کوئی ایسی حکومت ہے جو اس سے مخالفت کروا سکے؟ جو لوگ احمدیت کے دشمن ہیں حکومت اگر چاہے بھی تو ان کے دلوں سے دشمنی کو نہیں نکال سکتی۔اسی طرح جن لوگوں نے احمدیت کو قبول کر لیا ہے اگر حکومت بچا ہے بھی تو بھی ان کے دلوں سے بانی سلسلہ احمدیہ کی محبت کو نہیں نکال سکتی۔ہمارا مقابلہ اور ہماری جنگ دل سے ہے، اور جب ہمارا مقابلہ اور ہماری جنگ دل سے ہے تو حکومت پر نظر رکھنی فضول ہے۔تمہاری فتح دلوں کی فتح ہے اور جب دل فتح ہو جائیں گے تو تمہیں فتح حاصل ہو جائے گی۔اگر تم نے دلوں کو فتح کر لیا تو تم دیکھو گے کہ یہی افسر جو آج تمہارے خلاف دوسروں کو اُکساتے ہیں ہاتھ جوڑ کر تمہارے سامنے کھڑے ہو جائیں گے اور کہیں گے ہم تو آپ کے ہمیشہ سے مفادم ہیں " آخر کوئی حکومت برسیم ہویا غیر مسلم بڑی ہو یا اچھی اس کے بنتے ہیں خدا تعالیٰ کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- تُونِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَن