تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 62
جماعت احمدیہ سیالکوٹ کا سالانہ جلسہ ۱۶- انت الی ۱۳۳۱ پیش پر جلس سیالکوٹ پر یورش فروری ۱۹۵۲ء کو قرار پایا تھا اور احمدیوں کی کثیر تعداد بیرونی مقامات اور مصافات سے اس میں شرکت کے لئے پہنچ چکی تھی کہ بعض احراری علماء نے پہلے تو احمدیوں کے واجب القتل ہونے کا فتوئی نشر کیا پھر ایک ہجوم میں یہ اعلان کر کے کہ ہم احمدیوں کا جلسہ نہیں ہونے دیں گے جلسہ گاہ کا رخ کر لیا اور جونہی پہلا اجلاس ختم ہوا اور سامحسین جلسہ گاہ سے باہر نکلے تو ان پر شدید سنگ باری کی گئی جس سے چالیس سے زائد افراد بری طرح مجروح ہوئے۔اس کے بعد بلوائیوں نے بازار میں متعدد اشخاص کو مارا پیٹا اور گلیوں میں بھی تشدد سے کام لیا۔رات کو ڈپٹی کمشنر صاحب سیالکوٹ نے جماعت احمدیہ کے ارکان کو بلایا اور مشورہ دیا کہ جلسہ احمدیہ مسجد میں کر لیں لیکن جماعت سیالکوٹ نے اس رائے سے اتفاق نہ کرتے ہوئے اگلے روز کا پروگرام منسوخ کر دیا۔ہے لے اس موقعہ پر مقامی جماعت کی طرف سے صاحب ڈپٹی کمشنر کو یہ مراسلہ بھیجا گیا :- ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا ہجائے اپنی جلسہ گاہ گئے مسجد میں جا کر جلسہ کرنا کسی حالت میں بھی مناسب نہیں اور ہمارے حق کو ضائع کرنے کے مترادف ہے ہم نے بار بار آپ کی خدمت میں عرض کی کہ ہم خطرہ بھی برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن پہلی مرتبہ کے التواء کے بعد دوسری بار ایک نہایت ہی مختصر اجمل اس کو کافی سمجھنا ہمارے لئے مشکل ہے ہم یقینا اس بات کے حقدار ہیں کہ اس تعاون کے بعد جو ہم نے پچھلی بار کھایا تھا اس دفعہ حالات کی مشکلات کو برداشت کر کے ہمارے لئے سلسہ کرنا ممکن کیا جاتا۔اس جلسہ میں شرکت کے لئے بعض دوست باہر کے اضلاع سے آئے ہوئے تھے ہم حکومت کو یقیناً مشکلات میں پھنسا نا نہیں چاہتے لیکن اس کا یہ اثر ضرور ہو گا کہ ایسا شرارت پسند عنصر جو ہر ممکن طریق سے حکومت کو کمزور کرنا چاہتا ہے اور زیادہ دلیر ہو جائے گا اور امن پسند لوگوں کیلئے اپنے حقوق کی حفاظت مشکل ہو جائے گی پر حال آنچی انتظامی معذوریوں کے پیش نظر ہمارے لئے بجز اس کے کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ ہم اپنا بقیہ پروگرام منسوخ کر دیں" الفضل ۱۹ تبلیغ ۳۳۱ارتش / فروری ۶۱۹۵۲ ما