تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 55 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 55

۵۳ متحدہ ہندوستان میں جماعت احمدیہ کا ھو جاتی صوبجاتی نظام کو تحکم کرنے کا فرمان نظام ۱۹۳۳ء میں معرض وجود میں آیا تھا یہ قیام پاکستان کے بعد پنجاب کے علاوہ مغربی اور مشرقی پاکستان کے صوبوں میں صدر انجمن احمدیہ پاکستان کی صوبائی انجمنیں خوش اسلوبی سے کام کر رہی تھیں۔اس سال سید نا حضرت مصلح موجودہ نے پنجاب میں بھی صوبائی امارت قائم فرمائی جس کے انتخاب کے لئے صوبہ کے جملہ اضلاع اور اُن کے ساتھ دو دو سیکرٹریوں نے حصہ لیا۔یہ انتخا ربوہ کی پہلی مسجد مبارک میں ہوا جو اس وقت کچھی بنی ہوئی تھی۔اس انتخاب میں مرزا عبد الحق صاحب ایڈووکیٹ سرگودہا صوبائی امیر مقر ر ہوئے صوبائی امارت اگرچہ صرف ایک سال کے لئے قائم کی گئی تھی مگر جب پہلا تجربہ کامیاب رہا تو اس کو مستقل حیثیت دے دی گئی۔صوبائی امیر کے فرائض اب تک مرزاعب والحق صاحب نہیں انجام دے رہے ہیں۔کے حضرت صلح موعود نے ۱۳۳۱ اہش / ۱۹۵۲ء کے پہلے خطبہ جمعہ میں مکرم مرزاعبدالحق صاحب اور ان کے رفقاء کار کی مساعی پر خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :- پہلے پنجاب کا صوبہ، صوبجاتی نظام سے باہر تھا لیکن اب خدا تعالیٰ کے فضل سے پنجاب کو بھی صوبجاتی نظام میں شامل کر دیا گیا ہے اور یہ خوشی کی بات ہے بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ صوبہ پنجاب کے لئے یہ خوش قسمتی کی بات ہے کہ اسے ابتداء میں ہی ایسے کا رکن مل گئے جو اپنے اندر قربانی اور ایثار کی روح رکھتے ہیں مگر خالی اچھے کارکنوں کا مل جاتا کوئی چیز نہیں ہے۔ضرورت ہے کہ تمام کارکن اپنا پروگرام مقر کریں اور پھر اس کے لئے وقت مقررہ کریں اور اسے پورا کرنے کی کوشش کریں۔یہ امر ضرور مد نظر رکھا جائے کہ پروگرام ایسانہ ہوکہ جس پر عمل نہ کیا جا سکے بعض لوگ خیالی تجاویز بنا لیتے ہیں اور ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ انہیں پورا نہیں کر سکیں گے۔پر وگرام ایسا ہونا چاہیئے جسکو وہ مالی لحاظ سے افراد کے لحاظ سے، اور وقت کے لحاظ سے پورا کر سکتے ہیں یعنی عملی پروگرام ہونا چاہیئے، ایسا پروگرام تجویز نہ کیا جائے کہ جس کو مالی لحاظ سے جاری نہ کیا جا سکے۔ایسا پروگرام تجویز ه مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء ص ۳: کے تابعین اصحاب احمد جلد، ملت مولفہ ملک صلاح الدین صاحبة ایم۔اسے ، مطبوعہ شہادت ۳۵۰ امیش / ۱۹۷۱ء، ناشر ا حمدیہ بک ڈپو دار الرحمت شرقی ربوہ :