تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 56 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 56

۵۴ نہ کیا جائے جس کے لئے اتنے کارکنوں کی ضرورت ہو جو بیتا نہ ہو سکیں یا ایسا پروگرام ہو جس کے لئے زیادہ وقت کی ضرورت ہو۔ہر کام معقول اور طاقت کے مطابق ہونا چاہیئے ہماری جو طاقت اور قوت ہے اسی کے مطابق ہم کوئی پروگرام بنا سکتے ہیں اور اپنی طاقت کو خواہ وہ کتنی ہی قلیل ہو اگر صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو اس سے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔پروگرام ایسا ہونا چاہیئے جو عقلی لحاظ سے، مالی لحاظ سے ، وقت اور افراد کے لحاظ سے، ممکن ہو۔پھر گوری کوشش کی جائے کہ جو تجویزا اور میں نے شروع سال میں بنائی جائے اس سے پورا پورا فائدہ اُٹھایا جائے۔صوبجاتی نظام کے لحاظ سے بھی ایک پروگرام کی ضرورت ہے۔پہلا تجربہ ہم یہ کریں گے کہ امداد کو بلا کر شواری کریں گے اور باہمی مشورہ سے ان کے علاقوں کے لئے ایک پروگرام تجویز کریں گے یہ کام نظارت علیا کا ہوتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ جلد سے جلد امراء کو بلا کر مشورہ لے اور اُن کے لئے ایک پروگرام مقرر کرے پھر آئن ہر سال پیر جیلس ہوا کرے۔اور پھر آہستہ آہستہ بیرونی ممالک میں سے بھی اگر کسی میں اتنی طاقت پیدا ہو جائے کہ وہ اس مجلس میں شریک ہو سکے تو پھر وہ شریک ہوا کرے اور اس طرح اسے ایک عالمگیر ادارہ بنا دیا جائے " کے ار ماه صلح ۱۳۳۱ ش / جنوری ۱۹۵۲ء کو حضرت مصلح موعود محاسبہ نفس کی دعوت نے احجاب جماعت کو اس پولیس اور وقت کی قیمت پہچانے کی تلقین کی اور فرمایا : یکن سمجھتا ہوں کہ دنیا میں ہر انسان کے اندر کوئی وقت مستی کا آجاتا ہے اور کوئی وقت چستی کا آجاتا ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ کا نام باسط بھی ہے اور قابض بھی ہے اس لئے وہ کبھی انسان کی فطرت میں قبض پیدا کر دیتا ہے اور کبھی لبسط پید ا کر دیتا ہے۔اس حالت کا علاج ہیں ہوا کرتا ہے کہ انسان اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے اور اپنے گردوپیش کے حالات کا بھی محاسبہ کرتا رہے۔اسی لئے صوفیاء نے محاسبہ نفس کو ضروری قرار دیا ہے۔میرے دل میں خیال گزرا ہے کہ اگر ہم اپنے تمام وقت کا جائزہ لیتے رہتے تو شاید ہم بہت سی مستیوں سے نے تجویز ( PLAN) : کے الفضل ( صلح (۳۳ اش / جنوری ۱۹۵۲ء ص - من :