تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 54 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 54

۵۲ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت پر اب یہ نیا سال چڑھ رہا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کے دعوئی کے لحاظ سے باسٹھواں سال ہے اور بعیت کے لحاظ سے چونسٹھواں سال ہے۔بیعت پر گویا ۶۳ سال گذر گئے ہیں اور دعوئی کے لحاظ سے جماعت پر ا۶ سال گزر گئے ہیں۔اسکے منے یہ ہیں کہ ہماری جماعت کی عمر صدی کے نصف سے آگے بڑھ رہی ہے۔مگر کیا ہم جہاں عمر کے لحاظ سے نصف صدی سے اُوپر بار ہے ہیں وہاں ہم ترقی کے لحاظ سے بھی نصف صدی سے اوپر بجا ہے ہیں یا نہیں جہاں تک جماعت کے متعدد ممالک میں پھیل جانے کا سوال ہے ہماری ترقی قابل کتیں و فخر ہے مگر جہاں تک تعداد کا سوال ہے ہماری جماعت ابھی بہت پیچھے ہے۔جہاں تک مرکزی طاقت کا سوال ہے ہم اخلاقی اور عقلی طور پر اپنی پوزیشن قائم کر چکے ہیں مگر جہاں تک نفوذ کا سوال ہے ہم ابھی بہت پیچھے ہیں مگر ہماری مخالفت ترقی کر رہی ہے اور آپ ان گروہوں اور جماعتوں میں بھی پھیل رہی ہے جو پہلے ہمیں نظر انداز کر دیتی تھیں یا ہمارے افعال کو خوشی کی نگاہ سے تھیں۔نہیں آنے والے سال میں ہمیں مزید جد وجہد کی ضرورت ہے ہمیں ایک انقلابی تغیر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ایک انقلابی تغیر پیدا کئے بغیر ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔یہ انقلاب ہمارے دماغوں میں پیدا ہونا چاہیئے ہماری روحوں میں پیدا ہونا چاہیئے۔ہمارے دلوں میں پیدا ہونا چاہیے۔ہمارے افکار اور جذبات میں پیدا ہونا چاہیئے ہم اپنے دلوں ، روحول او دماغوں میں عظیم الشان انقلاب پیدا کئے بغیر اس مقام کو حاصل نہیں کر سکتے یاکم از کم اس مقام کو جلدی حاصل نہیں کر سکتے جس کو حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہے میں جھتا ہوں کہ ہمیں ہر سال اپنے لئے ایک پروگرام مقرر کرنا چاہیے اور اسے پورا کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہئیے۔۔۔ہماری جماعت ایک جہاد کرنے والی جماعت ہے بیشک ہم تلوار کے اس جہاد کے مخالف ہیں جو کسی ناکردہ گناہ پر تلوار پھلانے کی اجازت دیتا ہے مگر ہم سے زیادہ اس جہاد کا قائل کوئی نہیں جو جہاد ذہنوں جذبات اور روحوں سے کیا جاتا ہے میں حقیقتا اگر کوئی جماعت جہاد کی قائل ہے تو وہ صرف ہماری جماعت ہی ہے لے الفضل الصلح ۳۳۱ مش ح ب