تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 43 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 43

انم دعاؤں کی خاص تحرک امریکایی ایران اور ایران از ایمان بھی ہے اسی لئے سید نا حضرت امیر المؤمنين الصلح الموعود نئے سے نئے انداز میں جماعت احمدیہ کو اس نقطۂ مرکزہ یہ کی اہمیت و ضرورت کا احساس تازہ رکھتے تھے۔اس مستقل دستور کے مطابق آپنے ۲۸ تبوک ۱۳۳۰ اہش / ۲۸ ستمبر ۱۹۵۱ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :- " خدا تعالیٰ جس کی نصرت پر آتا ہے کوئی طاقت اُس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی پس اگر دنیوی امور میں وہ اس طرح مدد کرتا ہے تو وہ دینی باتوں میں کس طرح مدد کرے گا ؟۔۔۔پس راتوں کو اٹھو خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور انکسار کرو۔پھر ہی نہیں کہ خود دعا کرو بلکہ یہ دعا بھی کہو کہ ساری جماعت کو دعا کا ہتھیار مل جائے۔ایک سپاہی جیت نہیں سکتا جیتی فوج ہی ہے۔اسی طرح اگر ایک فرد دعا کریگا تو اُس کا اتنا فائدہ نہیں ہو گا جتنا ایک جماعت کی دعا کا فائدہ ہو گا تم خود بھی دعا کرو اور پھر ساری جماعت کے لئے بھی دعا کرو کہ خدا تعالیٰ انہیں دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہر احمدی کے دل میں یقین پیدا ہو جائے کہ دعا ایک کارگر وسیلہ ہے اور یہی ایک ذریعہ ہے جس سے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔جماعت کے سب افراد میں ایک آگ سی لگ جائے۔ہر احمدی اپنے گھر پر دعا کر رہا ہو پھر دیکھو خدا تعالیٰ کا فضل کس طرح نازل ہوتا ہے ؟“ لے جلسہ سیرة النبی میں حضرت مصلح موعودگی در ماه نبوت ۱۳۳۰ ش / ۱۸ نومبر ۱۹ کو پاکستان کے طول و عرض میں جماعت احمدیہ کے ایمان افروز تقریر زیر اہتمام وسیع پیمانے پر سیرۃ النبی کے جلسے منعقد ہوئے۔اس تقریب پر حضرت مصلح موعود نے ربوہ میں ایک معرکۃ الآرا و تقریر فرمائی جس میں سورہ علق کی سب سے پہلی قرآنی وحی سے نہایت لطیف استدلال کر کے حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفے صلے اللہ علیہ وسلم کے ارفع و اعلیٰ اور عدیم المثال خلق عظیم کا روح پرور نقشہ کھینچا ہے الفضل ، ارنبوت ۱۳۳۰ پیش / ۱۷ نومبر ۱۹۵۱ء ص ۲ پوری تقریره الفضل ۲۵ سامان ۱۳۳۱ ایش/ ۲۵ مارچ ۱۹۵۲ء میں شائع شدہ ہے ؛