تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 44
۴۲ ر اس سال مندرجہ ذیل مجاهدین احمدیت لغرض تبلیغ مبلغین احمدیت کی روانگی اور ام اسلام بیرونی مال کو روانہ ہوئے :- ا۔مکرم مولوی محمد اسمعیل صاحب مشیر برائے سیلون۔روانگی ۱۶۔وفا ۱۳۳۰ مش ) شیخ نور احمد صاحب منیر (برائے لبنان۔روانگی در ظهور ۳۳۰ ہش ) مولوی غلام احمد صاحب میشر (برائے حلب۔روانگی 4 ظهور ۳۳۰ اہش ) " ماسٹر محمد ابراہیم صاحب خلیل (برائے سیرالیون- روانگی ۲۴ تنبوک ۳۳۰ اہش ) علاوہ ازین مکرم چوہدری عبد الرحمن صاحب ( مبلغ لندن) مکرم چوہدری عبد اللطیف صاحب مبلغ جرمنی) مکرم مولوی عطاء اللہ صاحب (مبلغ گولڈ کوسٹ) مکرم ملک عطاء الرحمن صاحب (مبلغ فرانس) مکرم ملک احسان اللہ صاحب (مبلغ مغربی افریقہ مکرم قریشی مقبول احمد صاحب اسلخ انگلستان) اور مکرم مولوی رشید احمد صاحب چغتائی (مبلغ اُردن و شام و لبنان) اعلائے کلمہ اسلام کا فریضہ بجالانے کے بعد مرکز میں واپس تشریف لائے لیے لبنان - لبنان میں احمدیت کا بیج پرونی ممالک میں احمدی مشنوں کی تبلیغی سرگرمیاں ۱۳۲۹ ہش / ۱۹۵۰ء میں بویا گیا جہاں مکرم مولوی رشید احمد صاحب چغتائی کو اُردن و شام میں دعوت حق دینے کے بعد بھجوایا گیا تھا اور جن کے ذریعہ سید فائز الشہابی داخل سلسلہ احمدیہ ہوئے۔یہ پہلے لبنانی تھے جنہیں احمدیت کی نعمت نصیب ہوئی۔ان کے بعد اس سال السید حسن احمد قزق ، السیدہ فخریہ زوجہ حسن اور الحاج حسین قزق نے بیعت کی اور لبنان میں مقامی احمدیوں کی ایک مختصر جماعت قائم ہو گئی۔مکرم مولوی رشید احمد صاحب چغتائی نے پریس اور نیوز ایجنسی سے رابطہ قائم کیا اور ملک کی متاز شخصیتوں (مثلاً رفیق بے قصار، لبنانی قانون دان مسٹرفوا در رزق ڈاکٹر عمر فروخ وغیرہ سے ملاقاتیں کیں اور ان تک تحریک احمدیت کی آواز پہنچائی۔آپ نے لبنان کے علمی حلقوں میں کشتی نوح، استقصاء حمامة البشری، اسلامی اصول کی فلاسفی ، ابطال الوہیت اور پیام احمدیت کی بھی اشاعت کی۔اه الفضل ۲۱ روفا ۳۳۰ رش حث الفضل ۱۸ر ظهور ۱۳۳۰ پیش مث ، الفضل ۲۸ تبوک ۳۳۰ اش ما الفضل ١٠ نبوت ۱۳۳۰ مش حب الفضل ۱۱ فتح ۱۳۳۰ ش مرا، الفضل يكم صالح ۱۳۳۰ ش صدا