تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 498
۴۸۸ خارج ہے جس طرح ہندو اور عیسائی وغیرہ ہیں۔بلاشبہ ایک سچا مسلمان بننے کے لئے اسلام کی تمام تعلیمات کا پابند ہو ناضروری ہے۔جب تک کوئی شخص ایسا نہیں کرتا وہ محض نام کا مسلمان ہے اس سے ہماری پوزیشن واضح ہو جانی چاہئیے۔اگر لفظ کا مطلب ایسا شخص ہے جو ہندوؤں اور عیسائیوں کی طرح دائرہ اسلام سے خارج ہو تو یقینا یہ ہمارا عقیدہ نہیں ہے۔یہ امر افسوسناک ہے کہ جماعت احمدیہ کے مخالفین اس بارے میں ہمارے عقیدے کو غلط طور پر پیش کرتے ہیں۔اور جہاں تک اس امر کا تعلق ہے عوامی ذہن کو گمراہ کر دیا گیا ہے حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف یہ ہمارا عقیدہ نہیں ہے بلکہ میں تو اپنے پیروؤں سے یہی کہتا رہا ہوں کہ وہ ایسے القاب استعمال کرنے سے اجتناب کریں جن سے غیر احمدی مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔سوال :۔اس وضاحت کی روشنی میں آپ کی پوزیشین مولانا مودودی امیر جماعت اسلامی کے تقریباً مشابہ ہے۔ان کے نزدیک مسلمانوں کی دو قسمیں ہیں صالحین یعنی اصلی مسلمان اور دوسرے اسمی یا رسمی مسلمان۔کیا میں آپ کی پوزیشن کو اس طرح سمجھنے میں درست ہوں؟ جواب :۔ہاں اگر مولانا مودودی کے یہی خیالات ہیں تو ہماری پوزیشن نہیں ہے؛ لہ اس حقیقت افروز بیان کا خیر مقدم کرنے کی بجائے ایجی ٹیشن کی دھمکی دینے والے حلقوں نے اس پر تنقید کی اور پاکستان کے ایک سیمی لیڈر مسٹر ظفراقبال نے تو علماء کی تائید میں یہاں تک لکھا۔یکی برادران ملت سے پر زور اپیل کرتا ہوں کہ وہ --- مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی تحریک کو زور شور سے جاری رکھیں۔مرزائی اسلام پاکستان کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں ہم اس تحریک میں برادران ملت کے ساتھ ہیں اور ہم دو قدم آگے بڑھ کر ہر قسم کی جانی و مالی قربانی دے کر مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی تحریک کو کامیاب بنائیں گے " اخبار آزاد (لاہور) نے اپنے ۲۷ فروری ۱۹۵۳ء کے شمارہ میں سجی لیڈر کا یہ تائیدی بیان بڑے طمطراق سے شائع کیا جس پر سلمانوں کے سنجیدہ طبقہ میں سخت حیرت کا اظہار کیا گیا کیونکہ خاتم الانبیاء سید المرسلین محمصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات سے متعلق عیسائی دنیا کا عقیدہ یہ " له الفضل هم در تبلیغ ۳۳۲ آتش صدا "زمیندار" ۲۸،۲۶ - فروری ۶۱۹۵۳ ص به ! i