تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 497
۴۸۷ انشاء الله تعالى وبالله التوفيق۔یکن مکرر اجاب کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ یہ فتنہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور سے تعلق رکھنے والوں کے لئے بھی ویسا ہی خطرناک ہے جیسا ہمارے لئے۔اس لئے ان سے بھی جہاں جہاں وہ ہوں مشورہ کریں اور اپنی حفاظت کی سکیم میں ان کو بھی شامل کریں اور ان کی حفاظت بھی پورے اخلاص اور جذبہ سے کریں۔خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ ہوئی ہے d حضرت امیر المومنین الصلح الموعود نے فروری ۱۹۵۳ء کے آخر حضر مصلح موعود کا ایک اہم بیان میں لاہور کے انگریزی اخبار سول اینڈ مٹڑی گنٹ کے نمائندہ کو انٹرویو دیا جس کا متن یہ تھا :- سوال :۔جماعت احمدیہ کے خلاف موجودہ ایجی ٹیشن کی سب سے بڑی وجہ یہ عام المنام ہے کہ احمدی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں سمجھتے کیا اس الزام کی کوئی حقیقت ہے ؟ جواب : یہ الزام قطعاً غلط ہے ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم کے واضح ارشاد کے مطابق خاتم النبیین مانتے ہیں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ (علیہ السلام) نے بارہا حلقیہ اعلان کیا تھا کہ کیں ختم نبوت کے عقیدہ پر حکم ایمان رکھتا ہوں حقیقت یہ ہے کہ آپ نے اعلان کیا تھا کہ جو کوئی اس عقیدہ پر ایمان نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں ہے۔سوال :۔دوسرا الزام یہ ہے کہ احمدی غیر احمدی مسلمانوں کو کا فرکہتے ہیں۔کیا یہ الزام مبنی بر تیت ہے ؟ جواب : جو کوئی اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اُسے مسلمان کہلانے کا حق حاصل ہے۔اسلام کی بناء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے رکھی گئی اور حضور کے ذریعہ ہی بنی نوع انسان کو قرآن حکیم کی صورت میں الہامی کتاب علی اس لئے جو کوئی شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ( آخر الانبیاء سمجھتا ہے اور قرآن کریم کو بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے آخری الہامی کتاب تسلیم کرتا ہے اُسنے مسلمان کہلانے کا حق حاصل ہے خواہ وہ قرآن کریم کی بعض تعلیمات پر عمل نہ کرتا ہوں نہ ہم نہ کوئی اور ایسے شخص کے متعلق یہ کر سکتا ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے اسی طرح له الفضل ۱۵ر فروری ۱۹۵۳ء صد تا مثه