تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 495
۸۵ بعد یہ لوگوں کو احمدیوں کے خلاف اکسائیں گے خود مساجد کے مجروں میں گھس بھائیں گے اور عوام کو کہیں گے کہ بھاؤ اور احمدیوں کو مار دو۔بعد میں کہیں گے دیکھا ہم نے نہیں کہا تھا کہ اگر حکومت نے احمدیوں کو اقلیت قرار نہ دیا تو لوگ ان کو مار دیں گے۔اگر واقعہ میں لوگوں نے احمدیوں کو مارنا تھا تو لوگ خود اس بات کا نوٹس حکومت کو دیتے ان مولویوں کو نوٹس دینے کی کیا ضرورت تھی ؟ ان مولویوں کو کس طرح پتہ لگ گیا کہ لوگ ۲۲ فروری کے بعد احد یوں کو مار دیں گے۔صاف ظاہر ہے کہ یہ ایک سازش ہے۔۔۔انگلا جمعہ اس نوٹس کے لحاظ سے آخری جمعہ ہوگا اور اگلے اتوار کو ان کا نوٹس ختم ہو جائے گا۔میری کوشش ہوگی کہ یہ خطبہ اتوار کے اخبار میں چھپ جائے۔پس جب اور جہاں یہ خطبہ پہنچے جماعت فوراً اسمیلاس بلائے اور مشورہ کرے کہ ان کے لئے کیا کیا خطرات ممکن ہیں اور ان کے کیا کیا علاج انہوں نے تجویز کرتے ہیں۔اور پھر جن جماعتوں کو سخدا تعالیٰ توفیق دے اور ان کے پاس اتنار و پیہ ہو کہ وہ مرکز میں آدمی بھیجو اسکیس وہ مرکز میں آدمی بھجوائیں جو مقامی تجاویز لا کر نظارت امور عامہ سے اور نظارت دعوۃ و تبلیغ سے مشورہ کرنے ممکن ہے بعض مشورے ایسے ہوں جن کی اطلاع حکومت تک پہنچانی مقصود ہو یا لٹریچر کی اشاعت مقصود ہو تو اس کے متعلق نظارت امور عامہ اور دعوت و تبلیغ ہی مفید مشورہ دے سکتے ہیں اور مقامی حالات کو لو کل جماعتیں ہی صحیح طور پر کچھ سکتی ہیں۔اس لئے مرکز کا یہ ہدایت دینا کہ تم کوئی کر و بعض اوقات فضول سی بات ہو جاتی ہے۔جماعت میں پہلے آپس میں مشورہ کریں اور اس بات پر غور کریں کہ انہیں کیا کیا خطرہ پیش آسکتا ہے اور پھر اس کا کیا علاج کیا جا سکتا ہے ؟ پھر یہ بھی دیکھا جائے کہ جن لوگوں سے خطرہ ہے انہیں وہاں کیا اہمیت حاصل ہے اور ان کی جرأت اور دلیری کی کیا حالت ہے، ان کے اندر قربانی کا بعد یہ کس حد تک پایا جاتا ہے۔پھر آیا وہاں کے حکام دیانتدار ہیں ؟ اور وہ اس فتنہ کو دبانے کے لئے تیار ہیں یا نہیں۔پھر اگر حکام دیانت دار بھی ہوں اور وہ فتنہ کو دبانے پر آمادہ بھی ہوں تو بعض اوقات کچھ کمزوری باقی رہ جاتی ہے۔یا ہو سکتا ہے کہ وہ حکام فتنہ کو دبانے پر آمادہ نہ ہوں تو اس صورت میں اگر کوئی شورش ہوئی تو کیا حیات طاقت رکھتی ہے کہ شورش کا مقابلہ کرے پھر اس مقابلہ کے لئے انہوں نے کیا سکیم تیار کی ہے۔یہ باتیں ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے۔