تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 494
پہلے کیوں معاملہ نہیں نمٹایا اور خاص طور پر اس وقت اپنے دیرینہ بغض و کینہ کے نکالنے کے لئے سول نافرمانی کو کیوں ذریعہ بنایا ؟ (اس لیڈر نے جواب دیا کہ ) اس سوال کے جواب کے لئے بعض آؤ امور کا سلسلہ وار بیان کرنا ضروری ہے۔یادر ہے کہ پاکستان کا قیام غیر متوقع طور پر ہوا ہے۔ان حالات کا تقاضا تھا کہ ہم اپنی پوری کوشش سے اپنے وطن تجدید کی ابتداء مضبوط حالات سے کرتے اس کا نتیجہ یہ تھا کہ ہم نے ذمہ دارانہ عہدے دینے میں سمجھدار او تعلیم یافتہ لوگوں کی قابلیت پر دارومدار رکھا۔اور چونکہ احمدی بہت زیادہ تعلیم یافتہ اور منذب تھے اس لئے ان کو بہت سے ذمہ داری کے منصب سپر د کئے گئے اور احراریوں کو ان مہدوں کے حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی۔ایک تو اس لئے کہ وہ تعلیم یافتہ نہ تھے اور دوسرے اِس لئے کہ وہ ماضی میں پاکستان بننے کی مخالفت کرتے رہے تھے (ترجمہ) ہے احرار اور اُن کے ہمنوا علماء وزعماء قیام امن کیلے حضر مصلح موعود کی بر کت ہدایات کے معنوں میں باربار کہاں سے۔۔سکے تھے کہ ۲۲ فروری کے بعد ملک میں سول نافرمانی کے آغاز کی ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد ہو گی ہے۔۲۲۰۔فروری کے بعد صورت حال کی ذمہ داری ارباب حکومت پر ہوگی سول نافرمانی ہو یا جانو رض پھیلے ان تنائی کی ذمہ داری خواجہ ناظم الدین اور آئی کی کا مبینہ پر ہوگی یا کسے ب چونکہ صوبہ پنجاب کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی تھی اور پاکستان اور احمدیت کی مخالف قومی کھل کر سامنے آگئی تھیں اس لئے سیدنا حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے ۱۳ فروری ۱۹۵۳ء کو مسجد مبارک زیوہ میں ایک پر جلال خطبہ دیا جس میں حضرت مہدی موعود کی مظلوم اور بے ہیں جماعت کو قیام امن کی احتیاطی اور حفاظتی تدابیر بتائیں اور پرحکمت اور ضروری ہدایات سے نوازتے ہوئے ارشاد فرمایا :۔اور ابر اور ان کے ساتھیوں نے ۲۲ فروری کا آخری نوٹس دیا ہے اس کے معنے یہ ہیں کہ اسکے المصور (قاہره) ار اپریل ۱۹۵۳ء بحواله الفرقان «ربوده) فروری مارچ اپریل ۱۹۵۳ ماه رفتنی درگیر) له "آزاد" (لاہور) از فروری ۱۹۵۳ ء مٹ کا تم عمل و حت کالم رہا ہے 1)