تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 496 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 496

۴۸۶ ہر حال تم یہ سمجھ لو کہ کسی احمدی نے اپنی جگہ کونہیں چھوڑتا۔تمہارا اپنے گاؤں یا شہر میں اچانک مرنا یا لڑتے ہوئے مارے جانا تمہارے وہاں سے آجانے سے ہزار ہا درجہ بہتر ہے۔اگر کیسی احمدی نے جگہ چھوڑی تو ہمیں اس سے کوئی ہمدردی نہیں ہوگی مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے اتنی تعداد میں قتل ہونے کی وجہ ہی ہی تھی کہ انہوں نے اپنی جگہوں کو چھوڑ دیا اگر وہ میری بات مان لیتے اور اپنی جگہوں کو نہ چھوڑتے تو اس قد رقتل و غارت نہ ہوتی ہے شک بعد میں امن ہو جانے پر ہجرت کر لیتے ہجر ہم نے بھی کی لیکن چونکہ ہم نے قادیان کو فتنہ کے وقت چھوڑا نہیں اس لئے ہم امن ہونے پر خیریت سے یہاں آگئے۔پس یاد رکھو کہ اگر آپ لوگوں نے اپنی جگہ چھوڑی تو ہمیں آپ سے کوئی ہمدردی نہیں ہو گی۔پر نہیں کہ تم اپنی جگہ چھوڑ کر یہاں آجاؤ اور پھر دریافت کرو کہ اب ہم کیا کریں اگر ایسا ہوا توہم ہی کیں گے کہ جس شخص کے مشورہ پر تم نے یہ فعل کیا ہے اُس سے اب بھی مشورہ لو ہم تو صرف ایک بات جانتے ہیں کہ مومن نظم ہوتا ہے۔وہ سیسہ پگھلائی ہوئی دیوار کی طرح مضبوط ہوتا ہے سیسہ پچھلائی ہوئی دیوار کو کوئی توڑ نہیں سکتا اور اگر وہ ٹوٹتی ہے تو اکٹھی ٹوٹتی ہے۔اس تم اپنی جگہ کو مت چھوڑو۔آپس میں مشورہ کرو اور مرکز میں اپنی تجاویز پہنچاؤ۔تم اندازہ لگاؤ کہ کس حد تک گورنمنٹ کے حکام تمہاری حفاظت کرنے کے لئے تیار ہیں۔اور اگر کوئی کمزوری باقی رہ جاتی ہے تو سوچو کہ دشمن کے حملہ کی صورت میں جماعت کیا کرے گی۔مثلاً کیا وہ محلہ میں ایک جگہ جمع ہو جائے گی یا کونسی صورت ہے جسے وہ اختیار کرے گی۔پھر جو مشورے ہوں انہیں یہاں لے کر آؤ۔ڈاک کے ذریعہ اطلاع بھیجنا فضول اور لغو ہے ڈاک خانے ہماری ڈاک صنائع کر دیتے ہیں۔محکمہ ڈاک کے بعض ملازمین اتنے بے ایمان ہیں کہ وہ روٹیاں تو سر کاری کھاتے ہیں اور نو کر احرار کے ہیں۔اگر آپ لوگوں کی ڈاک پہنچ بھی گئی تو پھر غالباً مرکز کا مشورہ جماعت تک نہیں پہنچے گا۔جماعتوں کے نمائندے خود آئیں اور ناظر صاحب امور عامہ اور ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ سے مشورہ کریں اور پھر اس مشورہ پر عمل کریں اور دعائیں کریں۔یاد رکھو اگر تم نے احمدیت کو سچا سمجھ کر مانا ہے تو تمہیں یقین رکھنا چاہیئے کہ احمدیت خدا تعالیٰ کی قائم کی ہوئی ہے۔مودودی احراری اور ان کے ساتھی اگر احمدیت سے ٹکرائیں گے تو ان کا حال اس شخص کا سا ہوگا جو پہاڑ سے ٹکراتا ہے۔اگر یہ لوگ جیت گئے تو ہم جھوٹے ہیں لیکن اگر ہم بہتے ہیں تو یہی لوگ ہاریں گے