تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 485 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 485

۴۵ چنانچہ اخبار نگا ڈھا کہ) نے یکم مارچ ۱۹۵۳ء کو مذہبی عصبیت کے عنوان سے اخبار شنگھا سب ذیل مشذرہ پر در ظلم کیا :- سپرد کیا: بعض عناصر نے جو قادیانی جماعت کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں چونکہ گذشتہ جمعہ کو کراچی میں ڈائریکٹ ایکشن کا اعلان کر کے فتنہ برپا کرنے کی کوشش کی اس لئے حکومت پاکستان نے جمعہ کی صبیح ہی گیارہ مرکب وہ عمار کو گرفتار کرلیا حکومت کے اس ہر وقت اقدام سے ان لوگوں کا نصور پیوند خاک ہو گیا۔قارئین جانتے ہیں کہ بعض فرقے کچھ عرصہ سے بے وجہ مذہبی منافرت پھیلاتے پہلے آرہے ہیں ان تکہ محض اپنے سیاسی مفاد کی خاطر کسی کے مذہبی عقائد کے خلاف عوام کو مشتعل کرنا انتہائی قابل مدقت ہے۔مذہب کے نام پر اختلاف کے ہم قائل نہیں۔اتحاد اور نظام ہی اسلام کا بنیادی اصول ہے، اور اسی اصول پر پاکستان قائم ہوا۔جن لوگوں نے کراچی میں جمعہ کے دن اپنے سیاسی اغراض کے لئے فتنہ اُٹھانے کی کوشیش کی ان کی سیاست سے پورا ملک باخبر ہے کہ وہ پاکستان کے ہرگز خیر خواہ نہیں ہیں جیسا کہ سرکاری اعلامیہ سے بھی ظاہر ہے۔پریس نوٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس فتنہ کے بانی مبانی احرار تھے کو بعد میں بعض اور فرقے بھی انکی تائید میں شامل ہو گئے۔احرا تقسیم ملک سے قبل قیام پاکستان کے مخالف اور کانگریس کے ساتھی تھے ارا اب عوام کو مذہبی عقائد کی آڑ میں اشتعال دلا کر سیاسی طور پر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ ہمارا ملک اس امر کو سمجھنے کے لئے دماغ رکھتا ہے۔اس فرقہ نے ملکی بٹوارہ کے وقت جو گھناؤنا کردارا دا کیا ہے اس کو دیکھ کہ کوئی بھی پاکستانی اس کی موجودہ سرگرمیاں برداشت نہیں کر سکتا۔پاکستان کے عوام مذہبی عصبیت کی تنگ نظری پسند نہیں کرتے اور نہ وہ ملک کے کسی مسل یا غیرمسلم طبقہ یا فرد کے جمہوری حقوق کو نظر انداز کر سکتے ہیں انذالک کو احراری طائفہ کی سازش سے ہوشیار رہنا چاہئیے۔قادیانیوں کے مخلاف خواہ مخواہ اشتعال پیدا کرنا پاکستان کے لئے مفید نہیں ہے۔(ترجمہ) اخبار آزاد ۲ - اخبار آزاد ڈھاکہ نئے اتحاد اور مذہبی عصبیت کے عنوان سے حسب ذیل