تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 486
اوار پہ لکھا:۔۱۷ فروری بوقت صبح کراچی میں گیارہ مشہور مولویوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ان گرفتار شدگان میں مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا سعید الحامد صاحب بدایونی بھی شامل ہیں۔۱۶ فروری کو ایک جلسہ عام میں مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ورنہ ڈائر کٹے ایکشن تجویز کیا جائے گا حکومت پاکستان کے ایک پولیس کمیونگ میں ان گرفتار شدگان کے متعلق کیا گیا ہے کہ چند روز سے احمدیوں کے خلاف ایک تحریک چل رہی ہے۔تحریک کرنے والوں نے کہا ہے کہ اگر ان کے دعوئی کو حکومت تسلیم نہ کرے گی تو ڈائریکٹ ایکشن عمل میں لایا جائے گا۔قیام پاکستان سے قبل احراری جماعت جو مسلمانوں کی تحریک آزادی کے مخالف تھی اسی ٹولہ نے اب یہ تحریک شروع کر رکھی ہے اجداری قائد اعظم کے خلاف کانگریس کے ساتھ تھے۔قیام پاکستان کے بعد بھی ان لوگوں کو پاکستان پسند نہیں۔اور وہ پاکستان کے دشمنوں کی سازش اور امداد سے قومی اتحاد کو درہم برہم اور پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔پہلے یہ لوگ اشتعال انگیز تقاریہ اور اخباروں کے ذریعہ مخالفانہ پر اسپیگنڈا کر رہے تھے مگر اب وہ تخریبی کارروائی پر اتر آئے ہیں۔کوئی حکومت ایسی دھمکیوں کے سامنے جھک نہیں سکتی۔یہاں پاکستان کے اتحاد اور استحکام کے خلاف تخریبی کارروائی کرنے والے فرقوں کی کوئی کمی نہیں۔احراری ٹولی آج بھی اسی طرح پاکستان کی مخالف ہے جس طرح وہ گذشتہ زمانہ میں مخالفت کر رہی تھی۔اب یہی فرقہ مذہبی لبادہ اوڑھے ہوئے مسلمانوں میں فتنہ و فساد پھیلانے کے درپے ہے اور چند ماہ سے احمدیوں کے خلاف منافرت پھیلا رہا ہے۔اس فرقہ نے طرح طرح کی سازشیں کیں اور بالآخر خون خرابہ تک نوبت پہنچی حکومت پاکستان اب سختی کے ساتھ اس تحریک کو دبانے کا ارادہ رکھتی ہے۔اس شورش کو بہت عرصہ قبل پوری قوت سے دبا دیا جانا چاہیئے تھا لیکن حکومت نے تغافل برت کہ اس کو نظر یہی کارروائی کا موقع دے دیا ہے۔اس فرقہ کوجو پاکستان کے اتحاد واستحکام کا دشمن ہے اور مذہبی لبادہ اوڑھے ہوئے ہے معاف نہیں کیا جا سکتا۔اس کا وجود ہی ملک کے لئے ناقابل برداشت ہے اور اس کے ساتھ کسی طرح مل نہیں ہو سکتی۔افسوس !! حکومت پاکستان اس فرقہ کے محاطہ میں خوشامدانہ طرز عمل اختیا ر کرتی چلی آرہی ہے۔